بھارتی ہیڈکوچ کو قتل کی دھمکی دینے والا انجینئرنگ اسٹوڈنٹ نکلا
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے دوران بھارتی ٹیم کے سابق کرکٹر و موجودہ ہیڈکوچ گوتم گمبھیر کو قتل دھمکی دینے والا پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلگام واقعے کے روز سابق کرکٹر و ہیڈوکوچ گوتم گمبھیر کو قتل کی دھمکی دینے والا انجینئرنگ اسٹوڈنٹ نکلا۔
بھارتی ہیڈکوچ گوتم گمبھیر کو ای میل کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی جس میں محض ایک جملہ شامل تھا کہ "میں تمہیں مار دوں گا"۔
مزید پڑھیں: "میں تمہیں مار دوں گا" بھارتی ہیڈکوچ کو قتل کی دھمکی
انتہا پسند ہندو میڈیا نے گوتم گمبھیر کو ملنے والی دھمکی کو پہگام واقعہ سے ملانا چاہا تھا تاکہ پاکستان پر دوہرا الزام عائد کیا جاسکے تاہم پولیس نے تفتیش کے بعد بھارتی گجرات سے جگنیشسن پارمر کو حراست میں لیا۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ کنیریا کے بعد دھون بھی آفریدی کیخلاف میدان میں اُتر گئے
مذکورہ شخص کے والدین نے دعویٰ کیا ہے کہ نوجوان انجنیئرنگ اسٹوڈنٹ ہے اور اسکا دماغی توازن درست نہیں تاہم پولیس نے اُسے حراست میں لیکر مزید تفیش شروع کردی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالنے والے گوتم گمبھیر نے ورلڈ کپ جیتنے والے کوچ راہول ڈریوڈ کی جگہ لی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گوتم گمبھیر کو کی دھمکی کو قتل
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔