چیٹ جی پی ٹی کے ایک اور فیچر نے آتے ہی تہلکہ مچا دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کے سرچ ٹول میں متعدد نئے فیچر شامل کر دیے۔ اب پلیٹ فارم کی مدد سے صارفین خریداری کر سکیں گے۔
کمپنی کی جانب سے پیش کی گئی یہ اپ ڈیٹس گزشتہ برس اکتوبر میں متعارف کرائے گئے سرچ فیچرز میں شامل کی گئیں ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوپن اے آئی گوگل اور دیگر سرچ انجنز کے لیے مسائل بڑھا رہا ہے۔
تازہ ترین اپ ڈیٹس میں سب سے اہم شاپنگ فیچر ہے۔ اس فیچر کو استعمال کرتے ہوئے صارفین اشیاء کو ڈھونڈ سکتے ہیں اور موازنہ کرنے کے بعد براہ راست چیٹ جی پی ٹی سے خرید سکتے ہیں۔
اوپن اے آئی نے یہ بات واضح کی ہے کہ نتائج میں سامنے آنے والی اشیاء اشتہارات نہیں ہوں گی بلکہ ان کا خودبخود انتخاب کیا گیا ہے۔
یہ شاپنگ فیچرز چیٹ جی پی ٹی کے تمام صارفین کے لیے دستیاب ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔