مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم، نیو یارک ٹائمز نے پردہ فاش کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کیخلاف بھارتی مظالم کا نیویارک ٹائمز نے پردہ فاش کردیا۔
یہ بھی پڑھیں:نواز شریف پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کے لیے میدان میں آگئے، بین الاقوامی رابطوں کا آغاز
’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد مودی سرکار اور انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کیخلاف مہم تیز کر دی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں مسلمانوں کو حراست میں لیا گیا اور ان کے گھر مسمار کر دیے گئے ہیں۔
’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کیخلاف کریک ڈاؤن پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اظہار تشویش کیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کا کہنا ہےکہ پہلگام میں حملہ کو اقلیتی گروپوں پر انتقامی کارروائیوں کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے مسلمانوں کیخلاف انسانی حقوق کی پامالیوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
میناکشی گنگولی کے مطابق مسلمانوں کیخلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل بھی متوقع ہے۔
اس حوالے سے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی جریدے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم کی گواہی مودی کی جارحیت کا ثبوت ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی جانب سے پہلگام فالس فلیگ کو بہانہ بنا کر مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے گھر مسمار کرنا انتہائی بزدلانہ اقدام ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا بھارتی فوج پاک بھارت کشیدگی کشمیری مقبوضہ کشمیر نیویارک ٹائمز ہیومن رائٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا بھارتی فوج پاک بھارت کشیدگی نیویارک ٹائمز ہیومن رائٹس مسلمانوں کیخلاف انسانی حقوق کی نیویارک ٹائمز
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔