برطانیہ: جنسی جرائم میں ملوث افراد کو پناہ نہ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نئے بارڈر سیکیورٹی، اسائلم اینڈ امیگریشن بل کے تحت جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والے غیر ملکی شہری برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے سے محروم رہیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ہوم آفس نے کہا کہ کسی بھی جنسی جرم میں ملوث ہونے پر سزا پانے والے غیر ملکی کو پناہ گزین اسٹیٹس حاصل کرنے کی اہلیت سے محروم کر دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے ریفوجی کنونشن کے تحت ممالک دہشت گردوں، جنگی جرائم میں اور "خاص طور پر سنگین جرم" کے مرتکب افراد کو پناہ دینے سے انکار کرنے کا حق رکھتے ہیں، برطانیہ میں سنگین جرائم انہیں قرار دیا جاتا ہے جن پر 12 ماہ یا اس سے زیادہ کی سزا دی جا سکتی ہے۔
ہوم سیکرٹری نے کہا کہ جنسی مجرم جو کمیونٹی کے لیے خطرہ بنتے ہیں، انہیں برطانیہ میں بطور پناہ گزین تحفظ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، ہم ان خوفناک جرائم کو سنجیدگی سے لینے کو یقینی بنانے کے لیے قانون کو مضبوط کر رہے ہیں۔
|
|
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔