برطانیہ: جنسی جرائم میں ملوث افراد کو پناہ نہ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نئے بارڈر سیکیورٹی، اسائلم اینڈ امیگریشن بل کے تحت جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والے غیر ملکی شہری برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے سے محروم رہیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ہوم آفس نے کہا کہ کسی بھی جنسی جرم میں ملوث ہونے پر سزا پانے والے غیر ملکی کو پناہ گزین اسٹیٹس حاصل کرنے کی اہلیت سے محروم کر دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے ریفوجی کنونشن کے تحت ممالک دہشت گردوں، جنگی جرائم میں اور "خاص طور پر سنگین جرم" کے مرتکب افراد کو پناہ دینے سے انکار کرنے کا حق رکھتے ہیں، برطانیہ میں سنگین جرائم انہیں قرار دیا جاتا ہے جن پر 12 ماہ یا اس سے زیادہ کی سزا دی جا سکتی ہے۔
ہوم سیکرٹری نے کہا کہ جنسی مجرم جو کمیونٹی کے لیے خطرہ بنتے ہیں، انہیں برطانیہ میں بطور پناہ گزین تحفظ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، ہم ان خوفناک جرائم کو سنجیدگی سے لینے کو یقینی بنانے کے لیے قانون کو مضبوط کر رہے ہیں۔
|
|
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔