واہگہ بارڈر کے راستے مزید 315 مسافربھارت روانہ، 201 پاکستانی بھی وطن لوٹ آئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہورسے واہگہ بارڈر کے راستے مزید 315 مسافربھارت روانہ ہوگئے اور بھارت سے 201پاکستانی لاہورپہنچ گئے۔
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں مزید 315 بھارتی شہری آج واہگہ کے راستے بھارت چلے گئے جبکہ 201 پاکستانی شہری واپس لاہور آئے۔
حکام کے مطابق شادی کے بعد بھارت جانے والی 2 پاکستانی خواتین کو بھی واپس بھیج دیا گیا ہے۔
ایک خاتون نے بتایا کہ وہ شادی کے بعد بھارت گئی تھی جہاں بیٹا پیدا ہوا تاہم پاکستانی شہریت ہونے کے باعث اسے زبردستی واپس بھیج دیا گیا اور اب ان کا4 ماہ کا بیٹا شوہر کے پاس ہے۔
دوسری خاتون نے بھی بتایا کہ وہ شادی کے بعد بھارت گئی تھیں جہاں ان کے 4 بچے پیدا ہوئے مگر پاکستانی شہریت ہونے کے باعث اسے بھی زبردستی بے دخل کردیا گیا۔
سکھس فار جسٹس (SFJ) کا بھارتی پنجاب کے نام ویڈیو پیغام جاری ، جنگ نہ لڑنے کیلیے کیا نعرہ لگا دیا ۔۔؟ دیکھیے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔