خدشہ ہے کہ آئندہ 2 سے 3 دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چِھڑ جائے گی، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خدشہ موجود ہے کہ آئندہ 2 سے 3 دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چِھڑ جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی درخواست پر وزیر دفاع خواجہ آصف کا انسٹا گرام اکاؤنٹ بلاک
وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، پاکستان ذہنی طور پر جنگ کے لیے تیار ہے، پاکستان پوری قومی صلاحیت سے جواب دے گا، قومی صلاحیت کا مطلب ہمارے پاس موجود تمام صلاحیتوں کا استعمال ہے، اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ آئندہ 2، 3 دنوں میں جنگ چھڑجائے گی۔
وزیردفاع نے کہا کہ پہلگام واقعے پر بھارت کی جانب سے مسلسل پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں، پاکستان نے واضح طور پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے مختلف فورمز پر یہ مسئلہ اٹھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تین چار دن اہم، جنگ کے لیے 100 فیصد تیار ہیں: وزیر دفاع خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کے ثبوت پیش نہیں کیے ہیں، پاکستان نے بھارت کو اس معاملے کی مشترکہ شفاف تحقیقات کی بھی پیشکش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی حملے کو دیکھ کر پاکستان اپنا ردعمل دے گا، جس طرح کا عمل بھارت کرے گا اس کو اسی طرح کے ردعمل کا سامنا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بھارت پاکستان خواجہ آصف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان خواجہ ا صف خواجہ ا صف نے کہا کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔