القدس میں سکولوں کی بندش سے 800 بچے تعلیم سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
فلسطینی پناہ گزینوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قابض حکام نے القدس میں شعفاط پناہ گزین کیمپ سلوان، وادی الجوز اور صور باہر میں انروا کے چھ سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اقوام متحدہ کے سکولوں کی بندش سے 800 فلسطینی بچوں کے تعلیمی مستقبل کو خطرہ ہے۔ انروا کی طرف سےجاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 10 دنوں سے بھی کم وقت میں مشرقی بیت المقدس میں انروا کے چھ سکولوں کے خلاف اسرائیلی حکام کی جانب سے جاری کردہ بندش کے احکامات نافذ العمل ہوں گے۔ انروا کے مغربی کنارے میں امور کے ڈائریکٹر رولینڈ فریڈرچ نے ایکس پلیٹ فارم پر بدھ کو ایک پریس ریلیز میں کہا کہ سکولوں کی بندش سے تقریباً 800 بچوں کے تعلیم کے حق کو خطرہ ہے جو کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ شعفاط کیمپ میں انروا کے سکول کئی دہائیوں سے کیمپ کے سماجی تانے بانے کا حصہ رہے ہیں، جو بچوں کو اپنے گھروں کے قریب اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ ان میں لڑکیاں بھی ہیں جو اب سکول جانے سے خوف زدہ ہیں۔ اگر وہ تعلیم کا حق کھو دیں تو ڈاکٹر یا سائنسدان بننے کے ان کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قابض حکام نے القدس میں شعفاط پناہ گزین کیمپ سلوان، وادی الجوز اور صور باہر میں انروا کے چھ سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں انروا کے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔