بھارت کا پاکستانی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
بھارت نے پاکستانی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر نے فیصلہ کیا ہے۔ بھارت کی طرف سے یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے بھارتی ایئرلائنز پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے سے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
بھارتی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ یہ پابندی 30 اپریل سے 23 مئی تک نافذ رہے گی۔
یہ بھی پڑھیے: فضائی حدود کی بندش: بھارتی ایئرلائنز کی 800 سے زائد پروازیں متاثر، تاشقند اور الماتی پرواز معطل
خبررسان ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس پابندی کا اثر پاکستانی ایئرلائن انڈسٹری پر بھارتی ایئرلائنز کے مقابلے میں نسبتاً کم ہو گا، کیونکہ پاکستان سے صرف قومی ایئر لائن پی آئی اے ہی بھارتی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے کوالالمپور جاتی ہے۔ بھارت کو پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے بعد یومیہ کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
قومی ایئرلائن پی آئی اے نے منگل کے روز اعلان کیا تھاکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بھارتی فضائی حدود سے اجتناب کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز کو یومیہ کروڑوں کا نقصان
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ایک دہشتگردانہ حملے میں ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے سبب گزشتہ ہفتےپاکستان نے بھارتی ملکیت یا زیرِ انتظام ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند اور تمام تجارتی سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔
یہ فیصلہ اس سے ایک روز قبل بھارت کی طرف سے ایسے ہی اقدامات کے بعد سامنے آئے تھے جن میں پاکستان کے شہریوں کی بے دخلی اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی شامل تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پہلگام پی آئی اے فضائی حدود کشیدگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پہلگام پی ا ئی اے کشیدگی بھارتی ایئرلائنز کے لیے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔