مزدور ریڑھ کی ہڈی ہیں، حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی: امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان و ریاستی و سرحدی علاقہ جات (سفران) انجینئر امیر مقام نے یومِ مزدور کے موقع پر محنت کش طبقے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزدور ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
اپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم اپنے مزدوروں کی قربانیوں اور کامیابیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزدور نہ صرف حکومت بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کی خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔انجینئر امیر مقام نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لیبر فورس ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ایک خوشحال مزدور طبقہ ہی ایک ترقی یافتہ قوم کی ضمانت ہے۔انہوں نے کہا کہ یومِ مزدور نہ صرف محنت کشوں کی جدوجہد کی یاد دہانی ہے بلکہ معیشت میں ان کے کردار کا اعتراف بھی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا: “آئیے ہم سب مل کر ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھیں جہاں ہر مزدور کو عزت، قدر اور خوشحال زندگی میسر ہو۔”
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر نے کہا کہ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔