بھارت کا پاکستان کیخلاف ایک اور گھنائونا منصوبہ بے نقاب، اہم دستاویزات لیک
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز)پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے دستاویزی ثبوت کے ذریعے را نے دہشتگرد حملہ تیار کیا تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جاسکے۔
منظر عام پر انے والے دستاویزات میں ریزسٹنس فرنٹ اور پیپل اینٹی فاشسٹ فرنٹ دونوں دہشتگرد تنظیموں کا نام شامل ہیں۔ لیک دستاویزات کیٹگری گیما بی حیثیت کے حامل تھے منصوبے کے مطابق بھارت مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی خون کی ہولی کھیلنا تھا ۔
منصوبے کے مطابق بھارتی پروپیگنڈا مشین نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنی تھی کسی منصوبے کے مطابق را نے مکاری کے ساتھ پاکستان پر الزام عائد کرنا تھا اور حملے میں استعمال اسلحہ کو شمالی وزیرستان سے سپلائی کئے جانے کا الزام عائد کرنا تھا۔
لیک ہونے والی دستاویزات کے مطابق اس آپریشن کا مقصد امریکی محکمہ خارجہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو پاکستان کے خلاف متنفر کرنا تھااسی منصوبے کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کا بہانہ بنا کر بھارتی تسلط کو تقویت بخشنا اور کشمیریوں کی نسل کشی کرنا تھا۔
اس منصوبے کا ایک اہم مقصد پاکستانی فوج کی 12 کور کو مشرقی محاذ پر مصروف کرنا تھا۔ بلوچستان میں بھارتی راء اپنی حمایت یافتہ بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد گروپوں کو سہولت فراہم کرنا چاہتا تھا۔۔
لیک ہونے والی دستاویزات کے مطابق بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حملے کا بہانہ بنا کر سنھ تاس معاہدے کو معطل کرنا تھااس اس فالس فلیگ آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں بھارتی فوج کو پاکستان کے اندر 1.
بھارت بفر زون میں سٹریٹیجک قوت کو تقویت دے کر عالمی قوانین کے آرٹیکل 51 کو استعمال کیا جانا تھا ۔۔منصوبے میں تین پیرا کمانڈو اور ٹی 90 ارمڈ فارمیشن استعمال کیا جانا تھا بھارتی فضائیہ کو بری فوج کو کور کرنے کا استعمال دیا جانا تھا۔۔
ان دستاویزات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وانز کے وزٹ کا باقاعدہ ذکر کیا گیا ہے لیک ہونے والے دستاویزات میں باقاعدہ طور پر بھارتی میڈیا پروپگنڈا سٹریٹجی کا ذکر کیا گیا ہے اس سٹریٹجی کے مطابق دو سے چار گھنٹے کے بعد جالی ویڈیوز اور تصویروں سے بھارتی پرپیگنڈا کیا جانا تھا۔
خیبر پختونخوا: ناخوشگوار واقعہ کی بروقت اطلاع کیلئے 50 سائرن سسٹم نصب
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے مطابق کرنا تھا جانا تھا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :