وزیر اعظم نے بجلی خریداری کی نئی 10 سالہ منصوبہ بندی کی منظوری دیدی، اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری(فائل فوٹو)۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ وزیر اعظم نے بجلی خریداری سے متعلق نئی 10 سالہ منصوبہ بندی کی منظوری دے دی، نئی بجلی خریداری منصوبہ بندی میں 4743 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
وفاقی وزیر توانائی نے اپنے بیان میں کہا کہ بجلی کی خریداری پلان کو 14 ہزار میگاواٹ سے کم کر کے 7 ہزار میگاواٹ کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صارفین کو بوجھ سے بچانے کےلیے 7 ہزار میگاواٹ بجلی خریداری کو منسوخ کر دیا ہے۔ حکومت بجلی کی خرید و فروخت سے نکل رہی ہے، آئندہ بجلی کی خرید و فروخت مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے ہو گی۔
اویس لغاری نے کہا حکومت سنگل بائر ماڈل سے نکل رہی ہے، یہ اقدامات آئی پی پیز سے ہونے والے مذاکرات سے بھی اہم ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی کے مطابق یہ سارا عمل آئی پی پیز کے معاہدون پر نظر ثانی سے زیادہ اہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر توانائی بجلی خریداری اویس لغاری
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔