وزیر اعظم نے بجلی خریداری کی نئی 10 سالہ منصوبہ بندی کی منظوری دیدی، اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری(فائل فوٹو)۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ وزیر اعظم نے بجلی خریداری سے متعلق نئی 10 سالہ منصوبہ بندی کی منظوری دے دی، نئی بجلی خریداری منصوبہ بندی میں 4743 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
وفاقی وزیر توانائی نے اپنے بیان میں کہا کہ بجلی کی خریداری پلان کو 14 ہزار میگاواٹ سے کم کر کے 7 ہزار میگاواٹ کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صارفین کو بوجھ سے بچانے کےلیے 7 ہزار میگاواٹ بجلی خریداری کو منسوخ کر دیا ہے۔ حکومت بجلی کی خرید و فروخت سے نکل رہی ہے، آئندہ بجلی کی خرید و فروخت مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے ہو گی۔
اویس لغاری نے کہا حکومت سنگل بائر ماڈل سے نکل رہی ہے، یہ اقدامات آئی پی پیز سے ہونے والے مذاکرات سے بھی اہم ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی کے مطابق یہ سارا عمل آئی پی پیز کے معاہدون پر نظر ثانی سے زیادہ اہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر توانائی بجلی خریداری اویس لغاری
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔