برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت کو پہلگام حملے کی مشترکا اور آزادانہ تحقیقات کی پیش کش کر چکا ہے، حملے کی تحقیقات میں پاکستان مکمل تعاون کےلیے تیار ہے لیکن بھارت تحقیقات نہیں چاہتا اور بنا کسی ثبوت کے پاکستان پر حملے کی باتیں کر رہا ہے۔

برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل  نے کہا کہ بھارت کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے اور کُھلی دھمکیاں دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دعویٰ کر رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر جس میں بھارتی فوج کی بہت بڑی تعداد تعینات ہے وہاں تین یا چار افراد نے ایل او سی کراس کیا، ہتھیاروں کے ساتھ 230 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا، حملہ کیا اور واپس ایل او سی کراس کرلیا۔

ڈاکٹر محمد فیصل  نے کہا کہ بھارت کے پاس حملہ آوروں کے نام ہیں تو دے پاکستان کے پاس تو ہر شہری کا مکمل کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا موجود ہے، بھارت اپنے سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کے حربے استعمال کرتا آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں عالمی برادری بھی اس معاملے کو دیکھے اور مسئلہ کشمیر حل کروائے جو بنیادی مسئلہ ہے، پاکستان امن چاہتا ہے اور حملے میں کبھی پہل نہیں کرے گا لیکن اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو ہمیں دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم ثالثی کےلیے ہم عالمی ثالث کاری کا خیرمقدم کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ حملے کی رہا ہے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ