گجرات کے قصائی مودی نے سندھو پر حملہ کیا ہے،اگر پانی بند ہوا تو پھر اُنکا خون بہے گا، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہم نے عوام کے ساتھ ملکر سندھو دریا کو بچا لیا ہے، گجرات کے قصائی مودی نے سندھو دریا پر حملہ کیا ہے۔
میرپور خاص میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ جب میں وزیر خارجہ تھا تب بھی سندھ طاس معاہدے پر حملے ہوتے تھے، اب کشمیر کو بہانہ بناکر گجرات کے قصائی نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے سندھو پر حملہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پُرامن ملک جبکہ اسلام پرامن مذہب ہے، ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم مودی نے سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا جس کا ہم بھرپور دفاع کریں گے، بھارت کے لوگ بھی سندھو سے پیار کرتے ہیں اور اُن کی تاریخ بھی اس دریا سے جڑی ہے۔
بلاول نے کہا کہ ہم مودی کو سندھو کا گلہ گھوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے اور امید ہے کہ بھارت کے عوام بھی اپنے وزیراعظم کو ایسا کرنے سے روکیں گے، اگر سندھو پر حملہ کیا تو پھر یاد رکھیں کہ یا تو یہاں سے پانی بہے گا یا پھر اُن کا خون بہے گا۔
بلاول نے کہا کہ مودی جمہوریت پسند نہیں بلکہ انتہا پسند ہے اور ہم دنیا کے سامنے اس کو بے نقاب کریں گے، بھارت پُرامن ملک نہیں جنگ چھیڑنے والا ملک ہے، ہمارے عوام اور فوج ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیں گے، سندھو کیلیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
پی پی چیئرمین نے کہا کہ بھارت کے پاس اگر پہلگام کے حوالے سے ثبوت ہے تو ہمیں دے، جو ملوث ہوا اُسے سرعام تختہ دار پر چڑھائیں گے، اگر دھمکیاں دی گئیں تو پھر یاد رکھیں کہ ہم جنگ کیلیے بھی تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بنی تو مخالفت کرنے والے سازشی عناصر سمجھے کہ موقع مل گیا، سندھو سے نئی نہریں نکالنے کے معاملے پر سیاسی یتیم احتجاج نہیں جشن منا رہے تھے اور وہ سمجھ رہے تھے کہ آپ کے حقوق کا ہم اُن کی طرح سودا کرتے ہیں۔
بلاول نے کہا کہ ان جماعتوں کو غیر جمہوری ادوار میں حکومت کا موقع ملا اور جب موقع ملا تو انہوں نے عوام کے حقوق کا سودا کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ بھول گئے کہ پیپلزپارٹی بھٹو، بے نظیر، زرداری، بلاول کی جماعت ہے، ہم نہ جھکتے ہیں نہ پیچھے ہٹتے ہیں، ہم اصولوں پر لڑتے آرہے ہیں اور لڑیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ نئی نہروں کا مبصوبہ نگراں حکومت میں آیا، عارف علوی اُس وقت صدر مملکت تھے، جس میں ایکنک نے نئی نہروں کا جبکہ ارسا نے پانی سے متعلق ایک جعلی سرٹیفیکٹ جاری کیا تھا۔
پی پی چیئرمین نے کہا کہ عوام کا شکریہ جنہوں ووٹ دے کر ہمیں قومی اسمبلی میں پہنچایا، انتخابات میں دھاندلی کی وجہ سے اکثریت نہیں مل سکی تاہم عوام کی وجہ سے ایسی پوزیشن میں ہیں کہ ہم حکومت اور اپوزیشن کا راستہ روکتے ہیں اور ہم نے یہ کر کے دکھایا۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں پی پی کے صرف دو نمائندے تھے مگر ہم نے قائل کیا اور پھر منصوبے کو روکا دیا۔
بلاول نے کہا کہ سیاسی یتیموں نے زرداری کے خلاف آواز اٹھائی کیونکہ اُن میں ہمت نہیں تھی کہ کینال بنانے والوں کے خلاف آواز اٹھائے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ زرداری کو سلام پیش کرتا ہوں جو ہماری بھرپور نمائندگی کررہے ہیں اور سیاسی انداز میں مسائل حل کرتے ہیں، ہم نے عوام کے ساتھ ملکر سندھو دریا کو بچا لیا ہے۔ پُرامن طریقے سے ہم نے لوگوں کو قائل کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلاول نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پر حملہ کیا بلاول بھٹو ہیں اور
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔