پی ایس ایل: لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا میچ بارش کی نذر، دونوں کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پی ایس ایل 10 میں لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا میچ بارش کے باعث مکمل نہ کیا جاسکا جس کے سبب دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔
قبل ازیں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پی ایس ایل 10 کے اس 21 ویں میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔
پہلے کھیلتے ہوئے لاہور قلندرز نے 11 اعشاریہ 3 اوورز میں 111 رنز بنائے تھے جس کے بعد بارش ہوگئی اور میچ روک دیا گیا تاہم وہ دوبارہ شروع نہ ہوسکا اور بالآخر مقابلہ ختم کردیا گیا۔
تاہم، محمد نعیم اور عبداللہ شفیق نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 29، 29 گیندوں پر نصف سینچریاں اسکور کیں۔
پوائنٹس ٹیبلاسلام آباد یونائیٹڈ 10 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔ دوسرے نمبر پر لاہور قلندرز ہے جس کے 8 پوائنٹس ہیں جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور کراچی کنگز کے بھی 8 ہی پوائنٹس مگر وہ بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔ پشاور زلمی 4 پوائنٹس کے ساتھ 5ویں اور ملتان سلطانز 2 پوائنٹس کے ساتھ آخری نمبر پر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ایس ایل 10 کوئٹہ گلیڈی ایٹرز لاہور قلندرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل 10 کوئٹہ گلیڈی ایٹرز لاہور قلندرز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز لاہور قلندرز پی ایس ایل
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔