ایکسپریس نیوز نے بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پاک بھارت کشیدگی کے باعث یکم مئی کو واہگہ/اٹاری بارڈر ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند رہا، تاہم بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ بے بنیاد دعویٰ سامنے آیا کہ پاکستان نے بھارت میں پھنسے اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا نے ایک جعلی نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
اس جعلی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں مقیم پاکستانیوں کو وطن واپسی کے لیے غیر معینہ مدت کی مہلت دے دی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے اس جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر جب بھارت میں پھنسے پاکستانی شہری اٹاری بارڈر پر پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ دونوں ممالک کی جانب سے شہریوں کی واپسی کے لیے مقرر کردہ ڈیڈلائن 30 اپریل کو ختم ہو چکی ہے اور بارڈر اب غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
اس صورتِ حال سے کئی پاکستانی خاندان شدید پریشانی کا شکار ہو گئے۔ بھارتی میڈیا نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان مخالف پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ گویا پاکستان اپنے شہریوں کو واپس لینے سے گریزاں ہے۔
تاہم ایکسپریس ٹریبیون کی تحقیق کے مطابق بھارت اور پاکستان کے امیگریشن حکام نے اس مبینہ نوٹیفکیشن کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔
بھارتی امیگریشن حکام نے واضح کیا کہ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کے لیے بارڈر کھولنے سے متعلق کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق اس وقت بھارت میں ڈیڑھ ہزار سے زائد پاکستانی شہری پھنسے ہوئے ہیں، جن میں شارٹ ٹرم ویزا ہولڈرز اور پاکستان کے طویل مدتی ویزا رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی متعدد بھارتی شہری موجود ہیں جو 30 اپریل کی ڈیڈلائن تک واپس نہ جا سکے۔
ادھر افغانستان کی درخواست پر پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت 150 ٹرکوں کو واہگہ بارڈر کے راستے بھارت جانے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ ٹرک 25 اپریل سے پہلے پاکستان میں داخل ہو چکے تھے اور ان میں خشک میوہ جات سمیت کروڑوں روپے مالیت کا سامان موجود ہے، جس کے خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔
حکام کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے یہ ٹرک پاکستانی ڈرائیورز بھارت لے کر جاتے ہیں، تاہم چونکہ بھارتی حکومت نے پاکستانی ڈرائیوروں کے ویزے اور پرمٹس منسوخ کر دیے ہیں، اس لیے جب تک بھارت پاکستانی ڈرائیورز کو انٹری ویزا جاری نہیں کرتا، یہ ٹرک بارڈر کراس نہیں کر سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا کی جانب سے بھارت میں کے لیے
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے