Daily Ausaf:
2026-07-24@13:19:41 GMT

نوبل انعام یافتہ مزاحمتی ادیب ماریو ہارگاس یوسا

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

دنیا کی قدیم ترین متنوع تہذیبی تاریخ کا حامل پیرو جو ہمیشہ سیاسی انتشار کا شکار رہا ہے ۔پیرو کی ثقافتیں جہتیں بھی ایک سے زیادہ ہیں ۔ہسپانیہ سے پہلے کا دور،جس کا مرکز ’’کوزکو‘‘ تھا اس کا تہذیبی دور پندھروی صدی میں عروج پر تھا۔جس میں زراعت ،فن تعمیر کو فروغ ملا اور ایک عمدہ سماجی نظام کے تناظر میں مذہبی روایات کو پنپنے کا موقع ملا ’’مچو پچو‘‘جیسے آثار اسی دور کی شاندار مثالیں گردانی جاتی ہیں ۔
’’نو آبادیاتی دور‘‘ ۔ فرانسسکو پزارو کی قیادت میں 1532میں جس کا تختہ الٹ دیا گیا یوں پیرو سپین کی نوآبادیات بنا ۔یہاں عیسائیت کے ساتھ ساتھ ہسپانوی زبان اور یورپی تسلط ایک ساتھ قائم ہوئے ۔ مقامی باشندے جن کی معیشت کا دارومدار کان کنی سے وابستہ تھا ان کی گردن میں زرعی غلامی کے طوق سجا دیئے گئے جس سے سماجی اور معاشی مساوات کا خاتمہ ہوا ۔
1821ء میں پیرو کے پائوں کی غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گتیں اور تین ہی سال بعد وہ مکمل آزادی سے ہمکنار ہوا۔تاہم یہ سیاسی عدم استحکام اور فوجی بغاوتوں کا دور کہلایا جو مسلسل خانہ جنگیوں اور خارجی جارحیتوں پر مشتمل تھا۔پھر ’’چلی‘‘کے ساتھ معرکہ آرائی میں پیرو کو فقط شکستہی نہیں ہوئی بلکہ اپنے ایک بڑے زمینی حصے سے بھی ہاتھ دھونے پڑے ۔
بیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے پیرو نے بہت سارے زخم سہے ۔اس دوران جنرل خوان ویلاسکواپنے سات سالہ دور اقتدار میں انقلابی اصلاحات نافذ کیں ،شومیء قسمت وہ پیرو کی سماجی اور معاشی حالت میں کسی قسم کی تبدیلی لانے میں بے نیل و مرام رہے Sendero Luminoso نامی مائونواز انقلابی تحریک نے ایک بار پھر ملک میں خانہ جنگی کا سماں باندھ دیا،قتل و غارت گری میں لاکھوں انسانی جانیں کام آئیں ،ہزاروں لوگ لاپتہ ٹھہرے اور چاروں اور خوف و حراص کی فضا پھیل گئی۔
1990ء میں البر ٹو فوجیمیری کا اقتدار قائم ہوا اس دہشت گردی کا ازالہ کرتے کرتے جمہوریت کی گاڑی کو بھی پٹڑی سے اتار دیا ،اس کا دور بدعنوانی اور انسانی حقوق کی پامالی کا دور تھا جو عشرہ بھر روا رہا اور آخر کا وہ ملک چھوڑ کر فرار ہو گیا۔
اکیسویں صدی کے پیرو میں جمہوریت کے پودے کو پنپنے کے مواقع تو میسر ہیں مگر سیاسی ناہمواریوں اور بے اعتدالیوں کے سامنے مضبوط بند نہیں باندھا جا سکا۔گزشتہ دس برسوں میں متعدد حکمرانوں کو اقتدار چھوڑنے کے ساتھ مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔
ماریو ہار گاس یوسا اسی پیرو کا نامور ادیب اور صحافی تھاجو 1936ء میں پیرو کے ایک شہر میں پیدا ہوا،جس نے اپنا پورا بچپن عسکری بغاوتوں اورسیاسی ریشہ دوانیوں کے بیچ گزارا۔جس کے گہرے نقوش اس کی ذات پر مرتسم ہوئے۔اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے سچائیوں کو دفن ہوتے دیکھا اور ظلم کے بازاروں کی شدت و حدت میں سیاسی شعور کی عمر کو پہنچا اور اسی نے اسے مزاحمتی ادیب کے طور پر شہرت کے آسمان کا چمکتا ہوا ستارہ بنا دیا۔زبان و اسلوب پر قدرت کے ساتھ فہم و فراست اور متجسس دماغ میں کہانیوں نے ڈیرے ڈال دیئے۔جو پورے لاطینی امریکہ کی روح کا عکس بنیں ۔ تاہم غربت ہو یا سنسر شپ جس نے پورے معاشرے پر اثرات مرتب کئے مگر یہ سب مسائل ماریو ہرگاس یوسا کو نہ توڑ سکے ۔
آمریتوں اور جمہوریتوں کے بیچ فٹبال بنا رہا مگر اس کی موثر آواز کو کبھی دبایا نہ جا سکا اس کے نظریاتی ارتقا کے سامنے کوئی دیوار کھڑی نہ کر سکا ۔یوسا ابتدائی زندگی میں بائیں بازو کے ہم خیال مانے جاتے رہے مگر بعد ازاں روشن خیال سیاسی جدو جہد کے داعی بن گئے۔سیاسی نظام میں تبدیلی کے لئے وہ ایک بار ملک کے صدارتی انتخاب کے میدان میں بھی اترے مگر وہ اس میدان کے شناور نہ تھے اس لئے ناکام ہوئے۔یوسا سیاسی نظام کا حصہ بننے کی خواہش اس لئے رکھتے تھے کہ ’’ آمریت نہ صرف اداروں کو تباہ کرتی ہے بلکہ انسانی ،روح ،خاندانی نظام اور یادداشت تک کس مسخ کر دیتی ہے‘‘ ۔نقادان ادب کے مطابق ’’یوسا نے ادب کو احتجاج اور تاریخ کو انسان کے اندرونی نفسیاتی زخم کے ساتھ جوڑا ہے،اس کے ہر کردار سے تجربات مشاہدات اور فکری ارتقا کی پرتیں جھلکتی ہیں‘‘۔ماہ رواں کے وسط میں دار فانی کو کوچ کر جانے والے ناول نگار،کہانی نویس، صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار ماریوہار گاس یوسا کو 2010 ء میںادب کا نوبل انعام ملا۔ان کا شمار لاطینی امریکہ نمایاں ترین ادیبوں میں ہوتا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے ساتھ کا دور

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں