باقی ماندہ افغان باشندوں کو بھی پاکستان چھوڑنے کا حکم، چمن بارڈر پر بے پناہ رش
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
پاکستان نے بلوچستان میں مقیم افغان باشندوں کو ملک چھوڑنے کی ایک نئی ہدایت جاری کر دی، جس کے بعد جمعہ کے روز ہزاروں افغان شہری سرحد کی جانب روانہ ہو گئے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ انخلا ایک منظم اور باعزت انداز میں کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغان مہاجرین کے انخلا سے بلوچستان میں کاروباری سرگرمیوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
کوئٹہ سے سینئر سرکاری افسر مہر اللہ نے غیرملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہدایت موصول ہوئی ہے کہ تمام افغان شہریوں کی واپسی کے لیے ایک نیا مرحلہ شروع کیا جائے، اور یہ عمل باعزت اور منظم انداز میں مکمل کیا جائے گا۔
چمن بارڈر پر رشچمن کے سینئر سرکاری افسر حبیب بنگلزئی نے تصدیق کی کہ جمعہ کے روز چمن بارڈر پر تقریباً 4,000 سے 5,000 افغان شہری وطن واپسی کے لیے موجود تھے۔
واضح رہے کہ بلوچستان کی سرحد براہِ راست افغانستان سے ملتی ہے، اور ان دونوں علاقوں کے درمیان تاریخی، قبائلی اور خاندانی روابط پائے جاتے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت پیدا کی ہے۔ 2023 میں بھی ایسے ہی اقدامات کیے گئے تھے جن کے نتیجے میں ہزاروں افغان باشندے پاکستان چھوڑ کر افغانستان واپس چلے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے سچ کہا جائے تو اب فضا ہے کہ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس لوٹ جائیں، افغان قونصل جنرل
حکام کا کہنا ہے کہ افغان باشندوں کی واپسی کا یہ نیا مرحلہ پرامن، قانونی اور باعزت طریقے سے مکمل کیا جائے گا، جبکہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ عمل کو بہتر انداز میں انجام دیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان انخلا چمن بارڈر حبیب بنگلزئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان انخلا حبیب بنگلزئی افغان باشندوں
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند