چینی j-20 کی آبنائے سوشیما پر پرواز، امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا کا جدید ریڈار سسٹم بھی نہ پکڑ سکا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
بیجنگ(نیوز ڈیسک) چین کا کہنا ہے کہ اُس کا J-20 مائٹی ڈریگن اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ جاپان کے قریب سخت نگرانی والے آبنائے سُوشیما سے کسی کے علم میں آئے بغیر گزرگیا ۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ پرواز ایسے علاقے سے ہوئی جہاں امریکی، جاپانی اور جنوبی کوریائی ریڈار سسٹمز کا گہرا جال بچھا ہوا ہے، اِن میں طاقتور تھاڈ اینٹی میزائل سسٹم بھی شامل ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین کا دعویٰ درست ہے تو یہ مغربی فضائی دفاع کی ایک بڑی ناکامی ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے فرسٹ فائٹر بریگیڈ، جس میں J-20 طیارہ شامل ہے، آبنائے سُوشیما کے اوپر سے ہوتا ہوا تائیوان کے گرد چکر لگا کر واپس آیا۔
آبنائے سُوشیما جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان واقع ہے اور 1905 کی روس، جاپان جنگ کی ایک بڑی بحری لڑائی اس مقام پر لڑی گئی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔