امریکی نیوی کا جدید ایف-35 سی لڑاکا طیارہ بدھ کی شام وسطی کیلیفورنیا میں نیول ایئر اسٹیشن لیمر کے قریب گر کر تباہ ہوگیا، تاہم پائلٹ محفوظ طور پر طیارے سے باہر نکلنے میں کامیاب رہا۔

امریکی نیوی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق حادثہ شام 6 بج کر 30 منٹ کے قریب پیش آیا اور اس کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

حادثے کی ویڈیو مقامی ٹی وی چینل KFSN نے نشر کی، جس میں حادثے کے مقام سے آگ اور سیاہ دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ طیارہ ایک کھلے اور ہموار زرعی علاقے میں گرا، جو نیول ایئر اسٹیشن لیمر سے قریباً 64 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

فریسنو کاؤنٹی شیرف کے دفتر کے مطابق، ریسکیو ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور پائلٹ کو طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ کیلیفورنیا فائر ڈپارٹمنٹ (Cal Fire) نے بھی ریسپانس میں حصہ لیا۔

نیوی کے مطابق تباہ ہونے والا طیارہ اسٹریک فائٹر اسکواڈرن VF-125 (Rough Raiders) کے زیرِ استعمال تھا، جو ایک فلیٹ ریپلیسمنٹ اسکواڈرن ہے اور پائلٹس و فضائی عملے کی تربیت کی ذمہ داری رکھتا ہے۔

???? BIG BREAKING

US Navy's F-35 Stealth Fighter Jet CRASHES in California near Naval Air Station Lemoore.

pic.twitter.com/0YvtIspq50

— Megh Updates ????™ (@MeghUpdates) July 31, 2025

ایف-35 سی، ایف-35 لائٹننگ II کی 3 اقسام میں سے ایک ہے، جسے خصوصی طور پر امریکی بحری بیڑوں (Aircraft Carriers) پر آپریشن کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کے دیگر ماڈلز میں ایف-35 اے (ایئر فورس کے لیے) اور ایف-35 بی (مرین کور کے لیے، شارٹ ٹیک آف اور ورٹیکل لینڈنگ کے ساتھ) شامل ہیں۔

خیال رہے کہ ایف-35 دنیا کے جدید ترین پانچویں جنریشن کے لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا ہے، جس کی قیمت تقریباً 10 کروڑ امریکی ڈالر (تقریباً 28 ارب پاکستانی روپے) ہے۔ رواں سال یہ ایف-35 طیارے کا دوسرا حادثہ ہے، اس سے قبل جنوری میں الاسکا کے ایئلسن ایئرفورس بیس پر ایک تربیتی مشن کے دوران ایف-35 اے کریش ہوا تھا، جس میں پائلٹ بھی محفوظ رہا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان