پاک امریکا تجارتی ڈائیلاگ میں پیش رفت، وزیرخزانہ مذاکرات کی تکمیل کیلئے واشنگٹن روانہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
پاک امریکا تجارتی ڈائیلاگ میں پیش رفت، وزیرخزانہ مذاکرات کی تکمیل کیلئے واشنگٹن روانہ WhatsAppFacebookTwitter 0 28 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاک،امریکا ٹریڈ ڈائیلاگ میں پیش رفت ہوئی ہے، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب مذاکرات کی تکمیل کے لیے امریکا روانہ ہو گئے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دورے کے دوران پاک-امریکا ٹریڈ ڈائیلاگ پر حتمی بات چیت ہو گی، دونوں ملکوں کے مابین تجارتی معاہدہ کی تشکیل سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہو گا۔مزید بتایا کہ مضبوط تجارتی اور معاشی تعلقات پاک-امریکا دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون ہیں، امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، پاکستان دو طرفہ تجارتی تعلقات کو روایتی اور غیر روایتی شعبوں تک وسعت دینے کا خواہش مند ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں شراکت داری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔وزیر خزانہ کا دورہ امریکا دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تجارتی و معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کڑی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد کی ہدایت پر اسلام آباد میں تجاوزات کیخلاف مہم جاری چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد کی ہدایت پر اسلام آباد میں تجاوزات کیخلاف مہم جاری الیکشن کمیشن نے سندھ میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا حکومت نے شوگر ملز سے چینی کی خریداری کیلئے شرائط عائد کردیں، سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن ہونا لازمی قرار وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ اقتصادی آوٹ لک رپورٹ جاری کردی گئی قصور، گلی میں کھیلتی بچی کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے والا ملزم گرفتار جنوبی وزیرستان اپر میں کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاک امریکا
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔