پاکستان میں تشیع کی سیاسی جدوجہد اور قیادتیں(6)
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز: تحریک جعفریہ پاکستان، جو شیعہ علماء کونسل یا پھر اسلامی تحریک کے نام سے فعالیت رکھتی ہے، اسکی قیادت مکمل طور پر محدود ہوچکی ہے، مگر انکی موجودہ کابینہ کے کچھ اراکین بالخصوص علامہ شبیر حسن میثمی اور محترم ناظر عباس تقوی کی شکل میں دورہ جات اور فعالیت رکھتے ہیں۔ انکی فعالیت بہرحال کسی بھی طرح قائد ملت جعفریہ کی فعالیت نہیں کہی جا سکتی۔ قائد کی موجودگی کا احساس و ادراک بہت زیادہ اعتماد و یقین اور حوصلوں کا باعث بنتا ہے، خداوند کریم و مہربان ہمارے قائدین سے عوام کی خدمت کی توفیقات سلب نہ کرے۔ 37 سالہ دور میں بہت سے ایشوز سے صرف نظر کیا ہے، اس لیے کہ طوالت سے گریز بھی ضرورت ہے، اگلے کالم میں کچھ اور جماعتوں اور ادارون کے حوالے سے کچھ مطالعات پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر
مجموعی طور پر نوے کا عشرہ، فرقہ واریت، قتل و غارت، دہشت گردی، مجالس و مساجد پر حملے، اہم افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے بھرپور تھا۔ یہ وہ عشرہ تھا، جب پاکستان بالخصوص پنجاب کے ہر ضلع کو مقتل گاہ بنا دیا گیا۔ اسی عشرہ میں کالعدم سپاہ صحابہ کے مقابلہ میں ایک شیعہ جماعت سپاہ محمد کے نام سے سامنے آئی، جس نے سپاہ صحابہ کا انداز اپنایا، شیعوں کے قاتلوں سے انتقام کے برملا نعرے لگائے۔ بعد ازاں یہ جماعت بھی کالعدم قرار دی گئی اور اس کی قیادت بھی منطقی انجام سے دوچار ہوئی۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ نوے کے عشرے میں بہت زیادہ قیمتی افراد جان سے گئے۔ اس لیے کہ اس دور میں کشمیر کا محاذ کھولا گیا تھا، پاکستان بھر میں جہادی تربیت اور بھرتی دفاتر کام کر رہے تھے، افغانستان میں برسرپیکار گروہ اب کشمیر کا رخ کرچکے تھے، جبکہ 1995ء کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت لائی جا چکی تھی۔ لہذا فرقہ پرست دہشت گردوں کو کسی بھی طرح کوئی کمی، کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ دہشت گرد گروہ پاکستان بھر میں اپنا نیٹ ورک وسیع کرچکے تھے، جو پکڑا جاتا تھا، وہ برملا اعتراف کرتے ہوئے کہتا تھا ہاں۔۔۔ میں نے مارا ہے، پھر بھی ماروں گا۔
جب فضا اس قدر مکدر ہو تو پھر دور رس حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایسی فضا سے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ کے قیمتی لوگ مارے جاتے ہیں، شہادتوں کی وجہ سے بہت سے خاندان متاثرین میں شامل ہوتے ہیں، جن کے اپنے مسائل و مشکلات ہوتی ہیں۔ شہداء کے خانوادوں کے مسائل کیساتھ ساتھ ان کے کیسز کی قانونی پوزیشنز کیلئے بھی بہت زیادہ تنظیمی و سماجی نیٹ ورکنگ نیز مالیات کی مضبوطی ہونی چاہیئے۔ اس عشرے میں چونکہ بہت زیادہ لوگ شہید ہوئے اور تحریک ان خانوادوں کو مستقل بنیادوں پر کفالت، بچوں کی تعلیم و تربیت جیسے اہم فریضہ سے عہدہ برآء ہونے سے قاصر تھی۔ ایک تو تحریک کے ساتھ جعفریہ ویلفیئر فنڈ کے نام سے ایک ادارہ جناب سید اعجاز علی شاہ کی بھرپور فعالیت اور دلچسپی سے قائم تھا، جس کے ہر ضلع میں قیادت کے نام پر اکائونٹس کھولے گئے تھے، تاکہ لوگ اس میں مال امام، عطیات جمع کروا سکیں۔ سید اعجاز علی شاہ بھی قومی تاریخ اور اجتماعی جدوجہد کا ایک لازوال کردار تھے، جن کا اوڑھنا بچھونا مالیات کا نظام یعنی نظام خمس و زکوٰۃ تھا۔
یاد رہے کہ جعفریہ ویلفیئر فنڈ اور جعفریہ ٹرسٹ الگ الگ ادارے تھے، جعفریہ ٹرسٹ دراصل تحریک کی ملکیت قومی امانتوں اور تحریک کے ملازمین اور ورکرز کیلئے کام کرتا تھا، پاکستان بھر میں جہاں بھی دفاتر، کوٹھیاں، زمین، مکانات، لگژری گاڑیاں، کھیت، پنڈی میں مرکزی دفاتر، صوبائی دفاتر اور مرکزی سیکریٹریٹ کے لئے خریدی گئی قیمتی اراضی بھی اسی جعفریہ ٹرسٹ کی ملکیت میں رکھے گئے تھے، یہ کروڑوں نہیں اربوں کی جائیدادیں تھیں، نہ جانے کس کا کیا حال ہے، اللہ ہی جانتا ہے یا جن کے ہاتھوں میں قومی امانتیں امانت دار سمجھ کے دی گئی تھیں، انہیں ہی حساب دینا ہے۔ اس لیے کہ آج یہ اربوں کی جائیدادیں ہونے کے باوجود اجتماعی پلیٹ فارم قومیات کا وہ حق ادا نہیں کر رہا، جس کیلئے یہ سب کچھ خریدا گیا تھا۔
ضمیر انساں کی نعش اٹھائے نگر نگر پھر رہا ہوں لیکن
نہ چشم پر نم، نہ شور ماتم، عجیب عالم ہے بے حسی کا
جب شہداء کے خانوادوں کے مسائل بہت زیاد ہ بڑھے اور ان کی شنوائی کوئی نہیں کر رہا تھا، تب کراچی کے کچھ جوانان نے ایک ادارہ شہید فائونڈیشن کے نام سے قائم کیا، جس نے ابتدائی طور پر کراچی اور پھر سندھ بھر اور اس کے بعد پنجاب کی طرف اپنے نیٹ ورک کو مضبوط کیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میں جب مایوسیاں عروج پر تھیں تو کراچی کے یہ ذمہ داران پنجاب تشریف لائے۔ مجھے ان کیساتھ لاہور، جھنگ، بھوانہ، شورکوٹ، چنیوٹ، فیصل آباد جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ دراصل ابتدائی طور پر ڈیٹا اکٹھا کرکے شہداء کے خانوادوں کے حالات سے آگاہی لی گئی، تاکہ جو زیادہ مستحق ہو، اسے پہلے امداد شروع کی جاسکے۔ میری اطلاعات کے مطابق یہ ایک مکمل آزاد ادارہ ہے، جن کی پہلی ترجیح شہید کی فیملی ہوتی ہے، یہ اس وقت سے اب تک بڑی تعداد میں شہداء کے خانوادوں کی باعزت طریقہ سے سرپرستی کرتے ہیں۔
کاش اس شہید فاءونڈیشن کی طرح ایک اسیر فاءونڈیشن بھی ہوتی، جو اسیران کی بہبود، ان کے کیسز، ان کے گھروں کے معاملات اور ان گنت ایشوز کو حل کرنے کیلئے ایسے ہی فعالیت دکھاتی، جیسے آج ایک مضبوط ادارہ کے طور پر شہید فاءونڈیشن موجود ہے۔ اس لیے کہ شہادتوں کیساتھ ساتھ آپ کی ملت اور قوم پر دشمن نے منظم انداز میں مقابلہ کیا ہے، ان کی طرف سے جھوٹے مقدمات، توہین کے الزامات، ان کے مارے جانے والے کارکنان و لیڈران میں گرفتار شیعہ نوجوانان، اداروں کی طرف سے بیلنس پالیسی کا شکار بے گناہ شیعہ نوجوانوں کے کیسز اور عدالتی معاملات کیلئے بہت بڑی تعداد میں وکلاء کا نیٹ ورک، پینلز اور کیسز کو بروقت چلانے کیلئے ایک ادارہ کی اشد ضرورت ہے، مگر بوجوہ ایسا نہیں ہوسکا۔ قیادت نے ڈنگ ٹپائو پالیسی اختیار کی، تب بھی اور آج بھی ایسا ہی ہے۔
کہنے کا مقصد ہے کہ قیادت کو حالات کے تحت دشمن کی چالوں، سازشوں اور تحریکی سفر کو آگے بڑھانے کیلئے حکمت عملی کے تحت اپنی قوم کی تعلیم، تربیت، جوانان پر توجہ، ان کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی، ادارہ جاتی کام، اداروں و شعبوں کی مضبوطی، سماجی روابط، فلاحی امور، قوم کی یکجہتی، اتحاد کی راہیں نکالنا اور باہمی اختلافات کا خاتمہ کرکے مشترکات پر جمع ہونا، آمدن کا مضبوط و مربوط نظام، جس سے اپنے پاوں پہ کھڑا ہوا جا سکے، تاکہ آپ کی آزادی سلب نہ ہو۔۔ مگر ہم نے دیکھا کہ جماعتی امور انتہائی محدود ہوگئے، قیادت جنازے پڑھانے تک محدود ہوگئی، قوم کا مورال بہت زیادہ گر گیا، عدم تحفظ کا شکار لوگ اپنے نام بدلنے لگے، چونکہ شیعہ ناموں کی شاپس، کاروباری اداروں کو دیکھ کر بھی قتل کے واقعات ہوئے، حتیٰ بعض مقامات پہ اہل سنت جو محبان اہلبیت تھے اور آئمہ طاہرین (ع) سے محبت میں ان کے نام رکھے ہوئے تھے، انہیں بھی شہید کیا گیا۔
اسی نوے کے عشرہ میں، سات مارچ 1995ء کو قوم کا پاسبان، مسیحائے ملت ڈاکٹر محمد علی نقوی کو ان کے ایک ساتھی سمیت دن دیہاڑے شہید کر دیا گیا، ڈاکٹر محمد علی نقوی کی المناک شہادت نے قوم اور ملت تشیع پاکستان کے اجتماعی نظم پر گہرے اثرات مرتب کیے، اسی عرصہ میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، وکلاء، پروفیسرز، ڈاکٹرز، شاعر، ذاکرین، خطباء، مناظر، لکھاری چن چن کے مارے گئے۔ یہ ٹارگٹ کلنگ کا دور تھا، چن چن کر مارنے کا دور، مگر اس کے بعد اگلا عشرہ اس سے بھی شدید تھا کہ اس میں خودکش حملوں نے زور پکڑا، فدائی حملے ہونے لگے، مجالس پر خودکش حملے ہونے لگے۔ یوں ایک ہی واردات میں بیسیوں شہید ہوتے، جس سے حوصلے پست ہوتے، اس لیے کہ قوم کی تربیت نہیں کی گئی۔ شہادت کے نعرے لگانا اور ان مراحل سے گذر کر حوصلہ رکھنا الگ چیزیں ہیں۔
مجھے کوئٹہ، پاراچنار، ہنگو، کوہاٹ، پشاور، گلگت، بلتستان میں شہداء کے خانوادوں کو ملنے کا موقع ملا۔ یقین کریں کہ ایسی ایسی کہانیاں اور درد کہ انسان گریہ کرتا رہے، آنسو تھمنے کا نام نا لیں، مگر ہمارے قائدین، ذمہ داران، مسئولین وقت ٹپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (ہم ان ادوار میں امامیہ اسٹودنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے کردار و کارکردگی سے صرف نظر کر رہے ہیں، اس لیے کہ اس کی خدمات، اثرات کا دائرہ بہت وسعت رکھتا ہے، اگر ان کالموں میں شامل کریں تو شاید طوالت ہو جائے گی، جو اس ویب پورٹل کیلئے مناسب نہیں ہوگا، ہم الگ سے اس کردار پہ سلسلہ شروع کریں گے)۔ علامہ ساجد علی نقوی کے انہیں ادوار میں دشمن نے اہل تشیع کے خلاف قانون سازی کی بہت کوششیں کیں، چونکہ جھنگ کی سیٹ سے مسلسل رکن قومی اسمبلی، صوبائی مشیر کے ذریعے ایوان اقتدار میں پہنچ جاتے تھے۔
اس دور میں شیعہ شخصیات بھی سینیٹ کی ممبر منتخب ہوئیں، جن میں پہلے علامہ جواد ہادی بعد ازاں علامہ عابد الحسینی، ان دونوں شخصیات کا تعلق پاراچنار سے ہے، جبکہ جھنگ کی قومی اسمبلی کی سیٹ پر امان اللہ سیال نے تکفیری امیدوار کو ہرایا۔ امان اللہ سیال کو پوری قوم سمیت تحریک جعفریہ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ بہرحال سیاسی افق پر علامہ ساجد نقوی نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ سے بھی الیکشن اتحاد کیا، جبکہ متحدہ مجلس عمل سے بھی الیکشن اتحاد کیلئے بنایا گیا پلیٹ فارم تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایک مقامات پر شیعہ امیدواران کی بھرپور حمایت سے انہیں جتایا گیا، جسے قیادت کی حکمت عملی کہا جا سکتا ہے۔
اسی قیادت کے عرصہ، جو ابھی تک جاری ہے، میں ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، ہنگو، پاراچنار، کوئٹہ اور کراچی میں حالات انتہائی سنگین ہوئے، بعض ایریاز جیسے پاراچنار آج بھی ایسے ہی صورتحال سے دوچار ہے ، جیسا 2007ء سے 2011ء تک رہا تھا، اس وقت بھی گلے کاٹے گئے، راستے بند رہے۔
آج بھی وہی صورتحال ہے، جبکہ اس سے پہلے کے برسوں میں ڈیرہ اسماعیل خان میں اہل تشیع کی حالت بہت خراب ہوچکی تھی، لوگوں کی بہت بڑی تعداد بھکر، دریا خان، لیہ کی اطراف میں مہاجر ہو کر رہنے پر مجبور کر دیئے گئے تھے۔ قوم و ملت کا اعتماد و یقین قیادت پر ہوتا ہے، قیادت اگر ان کے گھروں تک پہنچے، ان کی دلجوئی کرے، حوصلہ دے، سر پر دست شفقت رکھے تو لوگ اپنا درد بھول جاتے ہیں اور قیادت کا دست و بازو بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اتنے سنگین حالات کے باوجود قیادت ان متاثرہ ایریاز میں اپنی قوم کے پاس نہیں پہنچی۔ مجھے یاد ہے کہ علامہ ساجد نقوی صاحب نے 1996ء میں آخری بار پاراچنار کا دورہ کیا تھا، ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ، گلگت کے حوالے سے بھی ایسی ہی خبریں ہیں۔ یہی وہ حالات تھے کہ لوگ، یعنی عوام وخواص کی نظریں کسی دوسرے کی جانب ہونے لگیں، جو ان کے پاس پہنچ رہا تھا، جو ان کا درد محسوس کر رہا تھا، جو ان کی خبر گیری کر رہا تھا۔
تحریک جعفریہ پاکستان، جو شیعہ علماء کونسل یا پھر اسلامی تحریک کے نام سے فعالیت رکھتی ہے، اس کی قیادت مکمل طور پر محدود ہوچکی ہے، مگر ان کی موجودہ کابینہ کے کچھ اراکین بالخصوص علامہ شبیر حسن میثمی اور محترم ناظر عباس تقوی کی شکل میں دورہ جات اور فعالیت رکھتے ہیں۔ ان کی فعالیت بہرحال کسی بھی طرح قائد ملت جعفریہ کی فعالیت نہیں کہی جا سکتی۔ قائد کی موجودگی کا احساس اور ادراک بہت زیادہ اعتماد و یقین اور حوصلوں کا باعث بنتا ہے، خداوند کریم و مہربان ہمارے قائدین سے عوام کی خدمت کی توفیقات سلب نہ کرے۔ 37 سالہ دور میں بہت سے ایشوز سے صرف نظر کیا ہے، اس لیے کہ طوالت سے گریز بھی ضرورت ہے، اگلے کالم میں کچھ اور جماعتوں اور ادارون کے حوالے سے کچھ مطالعات پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہداء کے خانوادوں بہت زیادہ کی فعالیت اس لیے کہ کے نام سے تحریک کے کی کوشش رہا تھا کر رہا سے بھی
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔