WE News:
2026-06-03@00:01:04 GMT

کیا تحریک انصاف دلدل سے باہر آسکے گی؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

پچھلے چند دنوں سے میں سوشل میڈیا پوسٹوں میں مسلسل یہ تلقین کر رہا ہوں کہ تحریک انصاف کی قیادت اور رہنماوں، کارکنوں کو اپنے تمام تر سیاسی اختلافات، شکوے شکایات بھول کر ملک وقوم کی خاطر افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرنا چاہیے، کچھ عرصے کے لیے سب کچھ بھلا کر ملکی سرحدوں کے پاسبانوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جب میں پاک فوج کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے پوسٹ کرتا ہوں تو بہت سے ہمارے انصافین احباب بڑے ذوق شوق سے اس پر اپنا ڈس کلیمر دینے آتے ہیں۔ بار بار ان کا اصرار ہوتا ہے کہ نہیں ہم ساتھ نہیں، ہم سے کوئی امید نہ رکھی جائے وغیرہ وغیرہ۔ انصافین کی یہ باتیں پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ بھائی جی آپ سے کس نے مدد مانگی ہے؟ کیا آپ کو واقعی لگتا ہے کہ آپ اگر گھر سے نہ نکلے، تو جنگ نہیں لڑی جائے گی؟ یہ ایک میٹافر یعنی بیانیہ ہے، ایک زبانی جملہ ہے کہ ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں، اپنی سپورٹ کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ نے لازمی جاکر جنگ ہی کرنی ہےاور اگر آپ نہیں جائیں گے، گھر بیٹھیں رہیں گے تو بے چارے فوجیوں کو سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ کیسے لڑنا ہے؟ ایسا نہیں ہوتا بھائی، آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟

تحریک انصاف کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس نے خود کو پوری پاکستانی قوم سمجھ لیا ہے۔ بھائی جی آپ لوگ اس قوم کا ایک حصہ ہیں، بس ایک حصہ۔ اور یہ ضروری نہیں کہ آپ کا سیاسی سائز جتنا ایک سال پہلے تھا، ہمیشہ وہی رہے گا۔ سیاسی جماعتیں کبھی اپنی سپورٹ بیس بڑھا لیتی ہیں اور کبھی وہ کم ہوجاتی ہے۔ یہ بات سمجھنی چاہیے۔ سمجھداری سے لیے گئے موقف پارٹی کی سپورٹ بڑھاتے ہیں اور بے وقوفانہ جذباتیت پارٹیوں کا بیڑا غرق بھی کرا دیتی ہے۔ اس لیے سمارٹ بنیں۔

میرا یہ کہنا اور ماننا ہے کہ پاکستان اس وقت ممکنہ جنگ کے کنارے پر کھڑا ہے۔ ایسے میں مصلحت کے تحت ہی اپنا غصہ اور فرسٹریشن کچھ دنوں کے لیے بھول کر ملک وقوم کے لیے اکھٹا ہونے کا اعلان کرنا چاہیے تھا، پاک فوج کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کر دیتے تو اس کا بڑا اچھا اثر پڑنا تھا۔

میں یہ بات مانتا ہوں کہ حکومت کا رویہ بھی مناسب نہیں۔ اسے اس وقت کشادہ دلی اور کھلے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر ایسے نازک وقت میں عمران خان سے اس کی بہنوں کی ملاقات نہ ہونے دینے کی کیا تک ہے؟ یہ بھی کوئی سیاسی لڑائی کا وقت ہے؟ اگر علمیہ خان کی اپنے بھائی سے ملاقات ہوجائے گی تو اس سے کیا ملک کا نقصان ہوجائے گا؟ اسی طرح تحریک انصاف کے مختلف چھوٹے بڑے رہنمائوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی خبریں آرہی ہیں، یہ سب درست نہیں۔ اگر کوئی مقدمہ جائز ہے، تب بھی حکومت کو اس وقت مصلحتاً اس چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔

یہ سب اپنی جگہ، تحریک انصاف کا غصہ، تلخی، فرسٹریشن سمجھ میں آتا ہے، ان کی بہت سی شکایات ہیں۔ عقلمندی اور حب الوطنی کا مگر تقاضا یہ ہے کہ ان چیزوں سے اوپر اٹھ کر قومی موقف لیا جائے۔ یہ وہی بات ہے جس کے بارے میں اسکالر، مصنف مولانا وحیدالدین خان بار بار لکھا کرتے تھے۔ ان کا اعراض (Avoid)کا نظریہ بڑا زبردست ہے۔ وہ ہمیشہ ٹکراو سے بچنے اور معاملہ فہمی کی تلقین کیا کرتے۔ لکھتے تھے کہ نشیب میں بہتے پانی کی طرح راستہ بناو، اس کے آگے رکاوٹ آجائے تو وہ سائیڈ سے ہو کر گزر جاتا ہے، ضد نہیں لگا لیتا۔ مولانا وحیدالدین خان نے یہ بات بہت بار لکھی کہ اگر آپ جذباتی ہیجان کا شکار ہو کر ٹکرانے کے بجائے صبر اور عزیمت سے کام لیں اور پرامن رہیں، مثبت رہیں تو بہرحال اس کا اثر ہوتا ہے۔ انسانی ضمیر پر کہیں نہ کہیں اس کا اثر ہوتا ہے۔

میں یہ بات بار بار لکھ رہا ہوں کہ تصور کریں کہ عمران خان کا ایک بہت مضبوط، واضح، زوردار بیان آجاتا اور تحریک انصاف والے دیگر رہنما اس کی تقلید کرتے، اسے ایک ٹرینڈ کے طور پر چلاتے کہ ہمارے اختلافات، شکوے شکایات اپنی جگہ مگر یہ نازک اور بحرانی وقت ہے۔ ہم اپنے ملک اور قوم کی خاطر اپنی تمام شکایات، مطالبات کچھ وقت کے لیے سائیڈ پر رکھ کر مکمل یکجہتی کا اعلان کر رہے ہیں۔ ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں۔ ہم دشمن کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

پھر عمران خان تحریک انصاف کے نوجوانوں کو ہدایت دیتے کہ وہ بطور رضاکار اپنی خدمات پیش کریں، بطور والنٹیر اپنی رجسٹریشن کرائیں اور افواج پاکستان کے ساتھ پوری طرح ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں۔ فرض کریں کہ ایسا بیان آجاتا اور یہ سب ہوجاتا تو کیا اس کے بعد بھی تحریک انصاف کے خلاف سیاسی کریک ڈاون کرنا ممکن ہوتا؟ کیا اس سب کا زبردست امپیکٹ نہ ہوتا؟ کیا عمران خان کے مخالفوں کا سب بیانیہ دفن نہ ہوجاتا؟ جو کہتے ہیں کہ تحریک انصاف ملک کے خلاف ایجنڈا رکھتی ہے، ان کے پاس کیا رہ جاتا؟ وہ سب لوگ جو عمران خان مخالف ہیں، وہ بھی ٹی وی چینلز پر تعریف کیے بغیر نہ رہ سکتے۔ عمران خان ایک بڑی اور وسیع سپورٹ بیس مزید حاصل کرلیتے۔

اور ایسا کرنے میں نقصان کیا تھا؟ عمران خان یا تحریک انصاف نے اپنا بیانیہ ترک نہیں کرنا تھا، وہ فارم45 والی بات بھی بے شک ساتھ کر لیتی، اپنی سب باتیں دہراتی مگر کہتی کہ ملک وقوم کی خاطر سردست ہم اس سب کچھ کو کچھ عرصے کے لیے بھلا رہے ہیں۔ جب حالات نارمل ہوجائیں گے تب ہم اپنی سیاست کریں گے، ابھی صرف دشمن کا مقابلہ کرنا ہے۔

اور سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان نے ایسا نہیں کیا، تحریک انصاف نے ایسا نہیں کیا تو انہیں کیا حاصل ہوگیا ہے؟ کیا انصافین سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے جگہ جگہ پر تنقیدی پوسٹوں، بیانات، فضول ٹرینڈز چلانے، فوج کے ساتھ نہ ہونے کے ڈس کلیمر دینے سے انہیں کچھ مل گیا ہے؟نہیں، ہرگز نہیں۔ الٹا یہ اپنے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑسکتی ہے۔

ویسے تو یہ سوال بھی پوچھا جا سکتا تھا کہ یہ سب ایک موقف اور دلی جذبات کا اظہار ہی ہے۔ تحریک انصاف والوں نے کون سا بندوق اٹھا کر محاذ پر چلے جانا تھا؟ جنگ تو فوج ہی نے لڑنا ہے اور وہی لڑے گی۔ ان شااللہ وہ فتح یاب ہوگی۔ یقین رکھیں کہ تحریک انصاف یا ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اس لیے کہ جیسے ہی خدانخواستہ جنگ چھڑی، پہلا گولہ گرا یا پہلا میزائل، راکٹ پاکستان کے کسی شہر پر گرا، پوری عوام کھڑی ہو کر، یک جان ہو کر فوج کے ساتھ ہوگی۔ کیونکہ ان کا سروائیول اسی میں ہے۔ انہیں فوج ہی نے بھارتی فوج سے بچانا ہے، تحریک انصاف نے یا کسی سیاسی جماعت نے نہیں بچانا۔ بس تب یہ ہوگا کہ وہ فوج مخالف موقف رکھنے والی جماعت عام آدمی اور عوام سے کٹ جائے گی۔

میں یہی بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ بار بار یہی لکھ رہا ہوں۔ اس لیے کہ مجھے تحریک انصاف سے ہمدردی ہے۔ وہ ایک بڑی سیاسی جماعت ہے، پرو ریفارم ہے اور اسے یوں ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

کئی انصافین دوست کہتے ہیں کہ آپ عمران خان سے مطالبہ کیوں کر رہے ہو، دوسرے فریق پر تنقید کیوں نہیں کرتے؟ بھئی ان پر تو میں مختلف ٹی وی پروگراموں میں تنقید کرچکا ہوں۔ پچھلے ایک سال سے مسلسل ان پر تنقید ہی کر رہا ہوں۔ اب البتہ مجھے یہ امکان نظر آیا تھا کہ اگر تحریک انصاف عقلمندی سے کام لے تو وہ اپنے بہت سے مسائل کم کرسکتی ہے۔ وہ فاصلہ کم ہوسکتا ہے جو تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پیدا ہوچکا ہے۔

ایک بڑا موقع تھا اور اب بھی ہے کہ تحریک انصاف پھر سے نئی شروعات کرے، اس کے قائد، رہنماوں اور کارکنوں کو بہت سے سیاسی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ خود سوچیں کہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفوں کی شدید خواہش یہی ہوگی کہ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ میں شدید فاصلے اور کشیدگی رہے۔ اپنے سیاسی مخالفوں ہی کو ناکام بنانے کے لیے تحریک انصاف عقلمندی کرلے۔ اپنے سیاسی دشمن کو خوش ہونے کا موقع کیوں دیتے ہیں؟

افسوس کہ یہ بات ہمارے تحریک انصاف کے دوستوں کو سمجھ نہیں آتی۔ وہ شدید جذباتیت کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔ اوپر اٹھنے کو تیار نہیں۔ وہ اس بڑے موقع کو ضائع کرچکے ہیں۔ بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ سیاسی مخالفت انہیں اس انتہا تک لے جاچکی ہے کہ وہ حالت جنگ میں بھی قومی یکجہتی کی ایکسرسائز کے لیے تیار نہیں۔ یہ افسوسناک ہے۔

تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے وہ اپنے فیصلے خود ہی کرے گی، ان کی مرضی جو جی چاہے موقف اپنائیں۔ ہمیں جو بہتر لگے گا، ہم وہ کہتے رہیں گے۔ اس لیے کہ لکھنا میرا کام ہے، اس لیے بھی کہ جو درست لگے، وہی لکھ دینا چاہیے۔ حالات اور وقت ہی ثابت کرتے ہیں کہ کس کی رائے غلط یا درست ہے، مگر درست یا غلط موقف سے زیادہ اہم دیانت دارانہ موقف ہے۔ ہمارا کام ایمانداری سے اپنی رائے دینا ہے۔

میری رائے یہی ہے کہ تحریک انصاف کو ملک وقوم کی خاطر اپنے سیاسی اختلافات، غصے، ناراضی اور جھنجھلاہٹ کچھ عرصہ کے لیے چھوڑ کرجس دلدل میں وہ دھنسے ہیں، اس سے باہر نکل آنا چاہیے۔ کم از کم باہر نکلنے کی کوشش تو کرنی چاہیے۔ یاد رہے کہ کوئی بھی چیز ملک وقوم اور ملکی سالمیت سے بڑھ کر نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کہ تحریک انصاف تحریک انصاف کے سیاسی جماعت کا اعلان کر فوج کے ساتھ ملک وقوم یہ ہے کہ رہے ہیں کی خاطر رہا ہوں ہیں کہ کر رہے کے لیے اس لیے یہ بات

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے