کراچی(کامرس ڈیسک) معروف کوریائی کار ساز کمپنی نے پاکستان میں اپنی مشہور ہیچ بیک ” پیکانٹو آٹومیٹک اے ٹی” کی قیمت میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہاگیا ہے کہ گاڑی کی ایکس فیکٹری قیمت میں 90,000 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، اور نئی قیمت یکم مئی 2025 سے مؤثر ہو چکی ہے۔اب پیکانٹو آٹومیٹک اے ٹی کی سابقہ قیمت 38 لاکھ 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 39 لاکھ 40 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔
کن صارفین پر نئی قیمت کا اطلاق ہوگا؟

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ خریدار جنہوں نے 30 اپریل 2025 تک مکمل ادائیگی کے ساتھ آرڈر بک کروایا ہے، انہیں پرانی قیمت یعنی 38.

5 لاکھ روپے پر ہی گاڑی فراہم کی جائے گی۔تاہم یکم مئی 2025 یا اس کے بعد آرڈر دینے والے صارفین کو نئی قیمت یعنی 39.4 لاکھ روپے کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

دیگر اخراجات خریدار کے ذمے

کمپنی نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ نئی قیمت ایکس فیکٹری ہے، جس میں فریٹ، انشورنس یا دیگر چارجز شامل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر گاڑی کی ڈیلیوری کے وقت حکومت کی جانب سے کوئی نیا ٹیکس یا ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے تو اس کی ادائیگی خریدار کو خود کرنا ہوگی۔
مزیدپڑھیں:پاکستان میں عید الاضحی ٰپر کتنی چھٹیاں؟ حکومت نے فیصلہ کر لیا

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا