پانی اور خوں اکٹھا نہیں بہہ سکتا، سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی پر رپورٹ تیار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پاکستانی تھنک ٹینک جناح انسٹیٹیوٹ نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی پر رپورٹ تیار کرلی، رپورٹ کا عنوان “پانی اور خوں اکٹھا نہیں بہہ سکتا “ رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت پاکستان کا پانی مکمل بند نہیں کر سکتا، 3 مغربی دریاؤں کا رخ موڑنے کیلئے 30 ڈیمز جتنی گنجائش درکار ہے، اتنی بڑی تعمیرات کے لیے درکار وقت، لاگت اور زمین دستیاب نہیں، دریاؤں کا بہاؤ موڑنے کی کوشش بھارتی علاقوں میں سیلاب کا باعث بن سکتی ہے، موجودہ بھارتی ڈیم صرف پن بجلی کےلیے بنائے گئے ہیں۔
تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی آبی جارحیت کا چین سمیت دیگر ممالک پر منفی اثر پڑے گا، بھارت کا یکطرفہ اقدام عالمی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگا، آبی معاہدے کی معطلی پر عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی آبی جارحیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مزید خراب کرسکتی ہے، نیپال، بھوٹان اور بنگلا دیش بھی بھارتی رویے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، دریاؤں کے پانی کو ہتھیار بنانا بھارت کی سفارتی ساکھ کو نقصان دے گا، عالمی برادری بھارت کے اس عمل کی مذمت کرے گی۔
پاکستان میں پانی کی غیر یقینی صورتحال معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔