چین پر ٹیرف، امریکہ میں اشیا کی قلت کا خدشہ، امریکی مارکیٹس کا کیا حال ہونیوالا ہے ؟تہلکہ خیز رپورٹ آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
امریکہ میں چین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے 145 فیصد ٹیرف کے اثرات آئندہ ہفتے سے نمایاں ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ان ٹیرفس کے اطلاق سے قبل چین سے روانہ ہونے والے آخری کارگو جہاز امریکی بندرگاہوں پر پہنچ رہے ہیں لیکن آئندہ دنوں میں نہ صرف جہازوں کی تعداد کم ہو جائے گی بلکہ وہ کم سامان لے کر آئیں گے۔
سی این این کے مطابق پورٹ آف لاس اینجلس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جین سیروکا کے مطابق 9 اپریل کے بعد لوڈ کیے گئے کارگو پر ٹیرف لاگو ہوگا اور اس کے نتیجے میں بندرگاہ پر آنے والا مال گزشتہ سال کے مقابلے میں 35 فیصد کم ہو جائے گا۔ نیشنل ریٹیل فیڈریشن کے مطابق 2025 کے دوسرے نصف میں مجموعی درآمدات میں کم از کم 20 فیصد کمی متوقع ہے جبکہ جے پی مورگن کے تجزیے کے مطابق چین سے درآمدات میں 75 سے 80 فیصد تک کی گراوٹ ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر چین سے آنے والی اشیاء کو متبادل ممالک سے بروقت پورا نہ کیا گیا تو نہ صرف قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ سپلائی چین بھی شدید متاثر ہو گی۔ بڑے درآمد کنندگان نے چھ سے آٹھ ہفتوں کے سٹاک کا بندوبست کر رکھا ہے لیکن اس کے بعد مارکیٹ میں بعض اشیاء نایاب یا بہت مہنگی ہو سکتی ہیں۔
پورٹ آف شنگھائی میں کئی بڑے کارگو جہاز کھڑے ہیں کیونکہ شپنگ کمپنیوں نے کم طلب کے باعث اپنی روانگیاں منسوخ کر دی ہیں۔ اپریل کے دوران چین سے امریکہ جانے والی شپمنٹس میں 60 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ادھر پورٹ آف نیویارک اینڈ نیوجرسی، جو مارچ میں ملک کی مصروف ترین بندرگاہ بن گیا تھا، نے مئی میں کارگو کی مقدار میں نمایاں کمی کی پیش گوئی کی ہے۔
اگرچہ بڑے ریٹیلرز نے متبادل ممالک جیسے ویتنام، ملائیشیا اور جنوب مشرقی ایشیا سے اشیاء منگوانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں، لیکن سی این این کے مطابق اتنی جلدی نئے سپلائرز سے وہ مقدار پوری کرنا ممکن نہیں۔ نیشنل ریٹیل فیڈریشن کے مطابق خاص طور پر بچوں کی اشیاء کے لیے معیار، ٹیسٹنگ اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل درپیش ہیں، جنہیں حل ہونے میں مہینے یا سال لگ سکتے ہیں۔
گارٹنر کی ایک حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق 45 فیصد سپلائی چین لیڈرز اضافی لاگت صارفین پر منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی گئی تو گرمیوں تک مارکیٹ میں قلت، مہنگائی اور محدود اشیاء کا سامنا ہوگا۔
پورٹ آف لاس اینجلس جو اپنی 45 فیصد کاروباری سرگرمیاں چین سے کرتا ہے، وہاں مزدوروں، ٹرک ڈرائیوروں اور گوداموں کے عملے کے کام کے اوقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکن ٹرکنگ ایسوسی ایشنز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چین سمیت کلیدی تجارتی شراکت داروں سے معاہدے کیے جائیں تاکہ شعبے میں بے روزگاری سے بچا جا سکے۔
صورتحال کا سب سے بڑا اثر صارفین، درآمد کنندگان اور چھوٹے تاجروں پر پڑے گا، جن کے پاس ٹیرف کی لاگت برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں۔ کئی اہم اشیاء جیسے ٹی وی، ملبوسات، جوتے، بچوں کے کھلونے اور دیگر روزمرہ مصنوعات کی قلت اور مہنگائی کا سامنا اب یقینی ہوتا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے مطابق پورٹ آف چین سے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔