سیاسی استحکام کیا اب ممکن نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایک بار یہ بات پھر دہرائی ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں بڑے بڑے منصوبے متاثر ہوئے ہیں، سیاسی استحکام نہایت ضروری ہے۔ حکومتی حلقے اور سیاسی حلقوں کی اکثریت کی طرف سے بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام کی باتیں کی جاتی ہیں اور ملک میں سیاسی استحکام کے لیے زور دیا جاتا ہے۔
پی ٹی آئی گرینڈ اپوزیشن الائنس بنوا کر ملک کو مزید سیاسی عدم استحکام بڑھانے کے لیے کوشاں ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ اپوزیشن اس کے خلاف کوئی بڑا سیاسی اتحاد بنانے میں کامیاب نہ ہوجائے اور یہ دونوں اپنی اپنی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
اس وقت ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے ، حکومت اور ریاستی ادارے ملک کی معیشت کی بہتری پر توجہ مرکوزکیے ہوئے ہیں، ان کی توجہ ان دونوں اہم معاملات پر ہے جب کہ قید میں موجود بانی پی ٹی آئی کو ہر حال میں اپنی باعزت رہائی کی فکر ہے، جس کے لیے وہ مختلف بیانات دے رہے ہیں اور حکومتی سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ خود ہیں ان کا اپنی رہائی کے سوا کوئی ایجنڈا نہیں جس کی وجہ سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔
سابق (ن) لیگی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنی موجودہ پوزیشن میں حکومت کی مخالفت میں اپنے طور پر اپوزیشن کا حصہ بنے ہوئے ہیں مگر ان کی سیاسی پارٹی ابھی عوامی مقبولیت کے بلند درجے پر نہیں پہنچی اور وہ خود کسی اسمبلی کے رکن بھی نہیں اور ان کا کہنا بھی یہ ہے کہ پی ٹی آئی اپنے بانی کی رہائی کی کوشش کر رہی ہے مگر پی ٹی آئی کے سوا اپوزیشن کی کسی اور پارٹی کا ایجنڈا یا کوشش بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہیں ہے بلکہ پوری اپوزیشن موجودہ حکومت کے خلاف ہے اور فروری کے انتخابات کو مسترد کر رہی ہے۔
سینیٹر فیصل واؤڈا کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے ملک کے حالات کو معمول پر لے آئے ہیں اور ملک کے لیے اچھی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں اور مئی میں بہت اہم اور اچھی خبریں ملک کو ملیں گی۔
پی ٹی آئی اپنے طور پر ملک کے سیاسی استحکام کے علاوہ معاشی استحکام کو خراب کرنے میں مسلسل مصروف ہے، اسے ملک میں سیاسی استحکام یا معاشی بہتری کی خواہش ہی نہیں بلکہ اس نے پوری کوشش کی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام نہ آئے کیونکہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا تو ملک کی معاشی حالت بہتر نہیں ہوگی بلکہ اس کی کوشش رہی کہ ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے حکومت جو کوشش کر رہی ہے وہ کسی صورت کامیاب نہ ہو اور ملک کے سیاسی و معاشی حالات اس قدر ابتر ہو جائیں کہ حکومت بانی کو رہا کرنے پر مجبور ہو جائے۔
ملک کے معروف تجزیہ کاروں اور وی لاگرز کے مطابق انھیں ملک کی موجودہ صورتحال میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی اور پی ٹی آئی بانی کی رہائی کو ملکی معاملات پر ترجیح دے کر جو کوشش کر رہی ہے وہ کارگر ثابت نہیں ہو رہی بلکہ بانی کے معاملات مزید بگڑ رہے ہیں اور ملک میں بہتری کے جو آثار نظر آ رہے ہیں اور جنھیں پی ٹی آئی خود بگاڑ رہی تھی۔
اس میں وہ کسی طورکامیاب نہیں ہو پائی اور اس کی تمام کوششیں رائیگاں ہوگئیں۔ ملک کی معاشی ابتری کے لیے بانی پی ٹی آئی نے اوورسیز پاکستانیوں سے جو اپیل کی تھی، اس پر اوورسیز پاکستانیوں نے کوئی دھیان نہیں دیا بلکہ بانی کے برعکس زیادہ رقم پاکستان بھیجی جس سے حکومت کو سیاسی و مالی فائدہ پہنچا اور حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو اسلام آباد مدعو کرکے ان کی بھلائی کے لیے مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا جس سے ان کے تحفظات دور اور شکایات کا ازالہ ہوا۔
اوورسیز پاکستانیوں نے بانی کی بات مسترد کر کے حکومت کی مالی پوزیشن بہتر بنا دی اور عالمی ادارے فنچ نے پاکستان کی معیشت مستحکم قرار دے کر پاکستان کی ریٹنگ میں اضافہ کردیا جس سے حکومت کی حوصلہ افزائی اور پی ٹی آئی کی کوششوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جس پر حکومت کو اطمینان میسر آگیا ہے۔
موجودہ حکومت کے بعض اقدامات اور عوام میں اس کی بڑھتی نہ مقبولیت سے لگ رہا تھا کہ کمزور حکومت کا کسی وقت بھی خاتمہ ہو جائے گا مگر حکومت اور بالاتروں کی کوششوں سے ملک میں کچھ بہتری آئی اور حکومت نے آئی ایم ایف کی غلامی میں رہتے ہوئے اسے قائل کر لیا کہ وہ اپنے عوام کو کچھ ریلیف دے دے، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم نے آئی ایم ایف کی اجازت سے بجلی سات روپے سے زیادہ سستی کی اور مزید سستی کرنے کی بھی امید دلائی جس سے عوام کو پہلی بار ریلیف ملے گا۔ ملک کی معاشی حالت میں بہتری اور عالمی سطح پر حکومتی پذیرائی سے حکومت کو اب ملک کے عدم سیاسی استحکام کی بھی کوئی فکر نہیں ہے اور اس کی پوری توجہ معاشی صورت حال کی مزید بہتری پر ہے اور بالاتروں کی حمایت بھی اسے اس سلسلے میں حاصل ہے جب کہ بانی پی ٹی آئی جو متضاد بیانات دے رہے ہیں۔
اس کے بعد ملک میں سیاسی استحکام ممکن ہی نہیں رہا۔ حکومت اندرونی طور پر کوشش میں ہے کہ اپوزیشن اس کے خلاف کوئی بڑا اتحاد نہ بنا سکے اور اس کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے۔ گرینڈ الائنس کے قیام میں صوبہ کے پی میں پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے سیاسی مفادات اصل رکاوٹ ہیں جس سے حکومت کا فائدہ ہے اور ان حالات میں ملک میں سیاسی استحکام اب خواب رہ گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملک میں سیاسی استحکام اوورسیز پاکستانیوں سیاسی عدم استحکام بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی کی اور حکومت کر رہی ہے ہوئے ہیں حکومت کی سے حکومت کی رہائی کہ بانی کی کوشش رہے ہیں ہیں اور اور ملک کے لیے ہے اور ملک کے ملک کی سے ملک
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :