یو این چیف انڈیا پاکستان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے، ترجمان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 03 مئی 2025ء) اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفین ڈوجیرک نے کہا ہے کہ ادارے کے سربراہ انتونیو گوتیرش انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطہ کرتے رہیں گے۔
جمعہ کو اپنی معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ دنیا میں کہیں بھی تناؤ کی کیفیت میں اقوام متحدہ کے سربراہ فریقین سے رابطہ کرتے ہیں تاکہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے اور اس حوالے سے اپنے دفتر کی خدمات پیش کرتے ہیں، ایسا ہی انڈیا اور پاکستان کے معاملے میں بھی کیا جا رہا ہے۔
ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کی طرف سے سیکرٹری جنرل کو ثالثی کرنے کی درخواست کی گئی ہے تو کیا اس پر انڈیا کی طرف سے کوئی جواب آیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ثالث تب ہی کوئی کردار ادا کر سکتا ہے جب دونوں فریقین اسے قبول کریں۔
(جاری ہے)
جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر 22 اپریل کو ہوئے دہشت گرد حملے میں 26 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
.ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
وزیراعظم سے یو اے ای کے سفیر کی ملاقات، خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف سے یو اے ای کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزابی نے آج وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور پاکستان کے لیے غیر متزلزل حمایت پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا ثبوت ہے۔
وزیر اعظم نے پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا میں حالیہ امن و امان کی صورتحال پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر میں مذمت کرتا ہے کیونکہ وہ خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں 90,000 ہلاکتوں اور 152 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات کے حوالے سے بے پناہ قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے مغربی محاذ سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کی عفریت سے نمٹ رہا ہے، بھارت کے حالیہ اقدامات اور اس کے جارحانہ انداز کا مقصد پاکستان کی توجہ دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں سے ہٹانا ہے۔
وزیراعظم نے بغیر کسی ثبوت کے پہلگام واقعہ سے پاکستان کو جوڑنے کی مذموم کوششوں میں ہندوستان کی طرف سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو واضح طور پر مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس واقعے کی قابل اعتماد، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان موجودہ بحران پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیے دوسرے دوست ممالک سے رابطہ کر رہا ہے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان کی حکومت کی توجہ گزشتہ پندرہ ماہ کے محنت سے کمائے گئے معاشی فوائد کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہے، جو متحدہ عرب امارات سمیت دوست ممالک کی حمایت سے ممکن ہوا، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہو۔
اس سلسلے میں، وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات سمیت برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کو مائل کریں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
متحدہ عرب امارات کے سفیر نے پاکستان کا موقف شیئر کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ متحدہ عرب امارات علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔