بھارت: گوا کے مندر میں بھگدڑ مچنے سے چھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 مئی 2025ء) پولیس حکام نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ بھارت کی مغربی ساحلی ریاست گوا کے ایک ہندو مندر میں منعقدہ سالانہ ’شری لارائی یاترا‘ تہوار کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم چھ افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
گوا اور اس کے پڑوسی ریاستوں مہاراشٹر اور کرناٹک سے لاکھوں عقیدت مند شری لارائی دیوی مندر میں منعقدہ اس سالانہ ہندو تہوار میں شریک ہوئے تھے۔
گوا کے ریاستی دارالحکومت پنجم میں پولیس افسر وی ایس چڈونکر نے بتایا، ''عقیدت مند ایک مذہبی رسم دیکھ رہے تھے کہ رسومات کے دوران پیدا ہونے والی افراتفری نے بھگدڑ کو جنم دیا۔‘‘
گوا کی بھگدڑ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟چڈونکر نے بتایا کہ زخمیوں میں کم از کم آٹھ افراد کی حالت نازک ہے۔
(جاری ہے)
گوا کے ریاستی وزیر صحت وشواجیت رانا نے بتایا کہ تقریباً 80 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، ''پانچ افراد کی حالت نازک ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔‘‘یہ واقعہ جمعہ کی رات شیرگاؤ گاؤں میں سالانہ 'شری لارائی یاترا‘ تہوار کے دوران پیش آیا۔ یہ تہوار اپنی خصوصی تقریبات، جیسے آگ پر چلنے کے لیے جانا جاتا ہے۔
بھاری سکیورٹی کی موجودگی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ہزار اہلکاروں کی مضبوط ٹاسک فورس کے باوجود یہ بھگدڑ مچی۔
پولیس حکام ابھی تک بھگدڑ کی وجہ کا تعین نہیں کر سکے ہیں۔بھارت میں ’انسانی خداؤں‘ کی بھرمار کیوں؟
ایک سینئر پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کو بتایا، ''حالات ابھی واضح نہیں ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ مندر کے قریبی راستے پر ایک کھڑی ڈھلان پر سے ایک شخص گر گیا، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔
‘‘ حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی تعزیتاس واقعے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر نے ''اپنے پیاروں کو کھونے والوں سے تعزیت‘‘ کا اظہار کیا۔
گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ لارائی دیوی مندر میں مچنے والی اس ''المناک بھگدڑ سے گہرے صدمے میں ہیں۔
‘‘ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ انہوں نے ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں زخمیوں کو داخل کیا گیا تھا اور وعدہ کیا کہ ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ کو ''ہر ممکن تعاون‘‘ فراہم کیا جائے گا۔بھارت میں مذہبی تہواروں کے دوران ہلاکت خیز بھگدڑ کے واقعات نسبتاً عام ہیں، جہاں چھوٹے علاقوں میں بڑے اجتماعات ہوتے ہیں۔ جنوری میں بھارت کے بڑے میلے مہا کمبھ، جو دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہے، میں بھگدڑ سے کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ادارت: عاطف بلوچ
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے دوران نے بتایا گوا کے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔