پی ایس ایل میچز پر پابندی کا جواب؛ آئی پی ایل پاکستان میں بند
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بھارت میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پر پابندی کے بعد جوابی اقدام اٹھاتے ہوئے پاکستان نے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) پر پابندی عائد کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلگام واقعہ پر بھارت کے اسپورٹس اسٹریمنگ چینل فینکوڈ نے ہندوستان میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی لائیو اسٹریمنگ کو معطل کرتے ہوئے ٹورنامنٹ سے متعلق ویڈیوز اور میچز کی جھلکیاں ہٹادیں تھی۔
اب ردعمل میں پاکستان نے بھی بھارت پر جوابی وار کرتے ہوئے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کی لائیو اسٹریمنگ بند کردی ہے۔
بھارت میں پی ایس ایل کی طرح پاکستان میں آئی پی ایل کے میچز نہیں دیکھے جاسکیں گے۔
واضح رہےکہ پاکستان میں انڈین پریمئیر لیگ کے میچز مختلف ایپس اور چینلز پر دیکھے جارہے تھے۔
اس سے قبل سونی اسپورٹس نیٹ ورک فینکوڈ اور کرک بز سمیت نشریاتی اداروں نے بھارت میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2025 کی تمام کوریج معطل کی تھی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں پاکستان ا ئی پی ایل پی ایس ایل
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔