پی ایس ایل میچز پر پابندی کا جواب؛ آئی پی ایل پاکستان میں بند
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بھارت میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پر پابندی کے بعد جوابی اقدام اٹھاتے ہوئے پاکستان نے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) پر پابندی عائد کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلگام واقعہ پر بھارت کے اسپورٹس اسٹریمنگ چینل فینکوڈ نے ہندوستان میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی لائیو اسٹریمنگ کو معطل کرتے ہوئے ٹورنامنٹ سے متعلق ویڈیوز اور میچز کی جھلکیاں ہٹادیں تھی۔
اب ردعمل میں پاکستان نے بھی بھارت پر جوابی وار کرتے ہوئے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کی لائیو اسٹریمنگ بند کردی ہے۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ بھارتی چینل نے پی ایس ایل کی لائیو اسٹریمنگ معطل کردی
بھارت میں پی ایس ایل کی طرح پاکستان میں آئی پی ایل کے میچز نہیں دیکھے جاسکیں گے۔
مزید پڑھیں: راکٹ مین کے مدمقابل آئی پی ایل کا "روبوٹک کُتا" عدالتی کیس میں پھنس گیا
واضح رہےکہ پاکستان میں انڈین پریمئیر لیگ کے میچز مختلف ایپس اور چینلز پر دیکھے جارہے تھے۔
مزید پڑھیں: آئی پی ایل اکھاڑا بن گئی، تھپڑ کے بعد کرکٹر نے ساتھی کو لات مار دی
اس سے قبل سونی اسپورٹس نیٹ ورک فینکوڈ اور کرک بز سمیت نشریاتی اداروں نے بھارت میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2025 کی تمام کوریج معطل کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پاکستان ا ئی پی ایل پی ایس ایل
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔