سینئر پی ٹی آئی رہنماء کی اہم امریکی عہدیداروں سے ملاقات، عمران خان کیخلاف جعلی مقدمات سے آگاہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
ملاقات میں فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کے بے بنیاد الزامات کے حوالے سے گفتگو ہوئی، بیرسٹر سیف نے مودی کے جنگی جنون کے حوالے سے بھی گفتگو کی، ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال سمیت خیبر پختون خوا میں آمن امان کے حوالے سے تنادلہ خیال ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹرسیف سے امریکا کے پولٹیکل مشن کے وزیر اور کمیشن کے قائمقام ڈپٹی ہیڈ نے ملاقات کی جس کے دوران امریکی عہدیداروں کو عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے خلاف جعلی مقدمات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں پہلگام کے فالس فلیگ اپریشن کے بعد پاکستان اور انڈیا کی کشیدہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا، ملاقات میں امن امان سمیت ملکی و صوبائی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کے بے بنیاد الزامات کے حوالے سے گفتگو ہوئی، بیرسٹر سیف نے مودی کے جنگی جنون کے حوالے سے بھی گفتگو کی، ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال سمیت خیبر پختون خوا میں آمن امان کے حوالے سے تنادلہ خیال ہوا۔
بیان کے مطابق بیرسٹر سیف نے عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے خلاف جعلی مقدمات کے حوالے سے آگاہ کیا، ملاقات میں صوبے اور خاص کر ضم اضلاع کے معاملات اور ترقیاتی عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختون خوا حکومت ضم اضلاع کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، خیبر پختون خوا حکومت امن امان، تعلیم کے فروغ اور صحت سہولیات پر کثیر بجٹ خرچ کررہی ہے۔ وفد نے عوامی فلاح وبہبود کے لئے خیبر پختون خوا حکومت کے اقدامات کو سراہا، بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ وفد نے امریکا کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختون خوا کے حوالے سے ملاقات میں خیال ہوا سیف نے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔