وزیر اطلاعات اور ڈی جی آئی ایس پی آر سیاسی رہنماؤں کو بریفنگ دیں گے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بریفنگ دیں گے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق سیاسی رہنماؤں کو دفاعی تیاریوں، سفارتی اقدامات اور ریاستی مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کو آج اور کل لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ کروایا جائے گا، دورے کا مقصد بھارت کے خیالی دہشت گردی کے کیمپس کے من گھڑت پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنا ہے۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایل او سی پر دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کا من گھڑت پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے، میڈیا کو ان مقامات پر لے جایا جائے گا جن کا جھوٹا پروپیگنڈا بھارت کرتا ہے۔
پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کو حقائق سے آگاہ کیا جائے گا، پاکستان پوری دنیا میں کسی بھی طرح کی دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا، پاکستان کسی بھی طرح کے دہشت گردانہ اقدامات کی حمایت نہیں کرتا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ پاکستان پر بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزارت اطلاعات جائے گا
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔