پاکستان کا بھارت کو انتباہ: جارحیت کا 2019 جیسا جواب دیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
پاکستان کا بھارت کو انتباہ: جارحیت کا 2019 جیسا جواب دیا جائے گا WhatsAppFacebookTwitter 0 3 May, 2025 سب نیوز
لندن(آئی پی ایس) پاکستان کے ہائی کمشنر برائے برطانیہ، ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت کی جانب سے مبینہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے “جھوٹ پر مبنی الزام تراشی” قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے بغیر کسی ثبوت کے لگائے گئے الزامات ناقابل قبول ہیں اور پاکستان اس قسم کی مہمات کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرتا رہے گا۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی جارحیت کا ارتکاب کیا تو پاکستان 2019 کی طرح منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، “یہ کسی بھی خودمختار ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے فوری اور موثر اقدام کرے۔”انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازعہ مسئلہ ہے جس کا حل کشمیری عوام کی مرضی اور رائے سے ہی ممکن ہے۔ “بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کیے گئے اپنے وعدوں سے انحراف کر رہا ہے، جو کہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے”،
ڈاکٹر فیصل نے کہا۔پاکستانی ہائی کمشنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں، بلکہ پرامن حل اور معتبر شواہد کی بنیاد پر بامعنی بات چیت کا حامی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز جیسے اقدامات کا نوٹس لے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی رہنما کنول شوزب نے امریکہ جانے کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا پاکستانی میزائل تجربے سے بھارت خوفزدہ، میڈیا میں چیخ و پکار شروع پاکستان کا 450 کلو میٹر کی رینج کے حامل ابدالی میزائل نظام کا کامیاب تجربہ بھارت پر جنگی جنون سوار، ٹرمپ مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلئے اقدام کریں: پاکستان بھارت سے بڑھتی کشیدگی؛پاکستان کا سلامتی کونسل اجلاس بلانے پر غور پاکستان نے بھارت کے میڈیا کو بلاک کر کے دشمن کو منہ توڑ جواب دیدیا پاکستان کی سالمیت کے دفاع کیلئے چین ہرطرح کی مدد کرے گا، وکٹر گا کا بھارتی اینکر کو جوابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان کا
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔