گوادر پورٹ سے حاصل آمدنی میں بلوچستان کا کوئی حصہ نہیں، انتظامیہ کا حکومت بلوچستان کو مراسلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)گوادر پورٹ اتھارٹی کی جانب سے حکومت بلوچستان کو کہا گیا ہے کہ گوادر پورٹ سے حاصل آمدنی میں بلوچستان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق گوادر پورٹ اتھارٹی کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ گوادر پورٹ کا آپریشنل انتظام چین کی کمپنی کے پاس ہے۔
مراسلے کے متن کے مطابق بندرگاہ کے 2 آپریٹنگ ادارے گوادر پورٹ اتھارٹی کو 9، 9 فیصد آمدنی دے رہے ہیں، ایک ادارہ اپنی آمدنی کا 15 فیصد گوادر پورٹ اتھارٹی کو دے رہا ہے ۔
لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر پاکستانیوں کا احتجاج، کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا عزم
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پورٹ اتھارٹی گوادر پورٹ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔