کراچی: مذہبی سیاسی جماعتوں کیجانب سے ملین مارچ، ٹریفک پلان جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
کراچی میں آج مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملین مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
یہ مارچ مظلوم فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی اور بھارت کی جارحیت کے خلاف کیا جا رہا ہے، مارچ بعد نمازِ ظہر مزارِ قائد نمائش چورنگی سے تبت سینٹر تک کیا جائے گا۔
ٹریفک پولیس کے مطابق باغ جناح نزد نمائش چورنگی میں مارچ شرکاء گاڑیاں پارک کر سکیں گے۔
ٹریفک پولیس نے بتایا کہ گرومندر، جمشید روڈ اور تین ہٹی سے نمائش تک عام عوام کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی، شہری گرومندر سے بہادر روڈ، جمشید روڈ سے جیل چورنگی جبکہ سوسائٹی چورنگی سے کشمیر روڈ کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی زیرِ صدارت 27 اپریل کو مینار پاکستان پر ہونے والے ملین مارچ کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔
ٹریفک پولیس کے مطابق بنوری سگنل، جیل چورنگی سے جمشید روڈ آنے والی ٹریفک کو سولجر بازار کی طرف موڑ دیا جائے گا۔
ٹریفک پولیس نے بتایا کہ لیاقت آباد نمبر 10 سے تین ہٹی اور گرومندر پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ ممنوع ہوگا۔
ٹریفک پولیس کے مطابق لسبیلہ اور تین ہٹی سے آنے والی ہیوی ٹریفک کو گرومندر جانے کی اجازت نہیں ہوگی، ہیوی گاڑیاں نشتر روڈ کا راستہ اختیار کریں۔
ٹریفک پولیس نے بتایا کہ ایم اے جناح روڈ عید گاہ چوک سے آنے والی ٹریفک کو پوسٹ آفس کی طرف موڑ دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس ملین مارچ
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔