ٹیکس افسران کو لامحدود اختیارات دینے کا معاملہ،صدر مرکزی تنظیم تاجران کاشف چوہدری نے فیصلے کو معیشت دشمن قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
ٹیکس افسران کو لامحدود اختیارات دینے کا معاملہ،صدر مرکزی تنظیم تاجران کاشف چوہدری نے فیصلے کو معیشت دشمن قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 4 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ تاجر برادی انکم ٹیکس ترمیمی آرڈینس کو یکسر مسترد کرتی ہے ، کرپشن کا بازار گرم کرنے کے لئے ٹیکس افسران کے اختیارات میں لامحدود اضافہ کیا گیاہم ملکی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے ایسے اوچھے ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہونے دیں گے
انکم ٹیکس ترمیمی ارڈیننس کے تحت ٹیکس افسران کو لامحدود اختیارات دینے کے معاملے پر کاشف چوہدری صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے اتوار کو جاری بیان میں کہا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے قانونی کاررائی یا نوٹس کے بغیر کاروباری لوگوں کے اکاونٹس سے پیسہ نکلوانے کا اختیار دینا ڈاکوں راج کے مترادف ھے ،کچے کے ڈاکووں کے بعد پکے کے ڈاکووں نے تاجروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی تیاری کر لی ہے لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے ۔تاجروں کا اتحاد و اتفاق حکومت و ایف بی آر کو ایسے ظالمانہ اقدامات سے باز رکھے گا انہوں نے کہاکہ مارکیٹیوں اور کاروباری مقامات پر ٹیکس افسران کی تعیناتی نہیں ہونے دینگے، کاروباری مقامات پر افسران کی تعیناتی کا اختیارکاروبار تباہ و برباد کرنے کے مترادف ہوگاہم تاجروں کو دیوار سے لگانے کی سازش کامیاب نہیں ھونے دیں گے ۔
کاشف چوہدری نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر انکم ٹیکس ترمیمی آرڈینس واپس لینے کا الٹی میٹم دیتے ہیں حکومت نے ملک و تاجر دشمن ترمیمی آرڈیننس واپس نہ لیا تو تاجر برادری آئندہ کا لائحہ عمل دے گی حکومت نے پہلے بھی تاجر دوست سکیم کے نام پر کاروباری حضرات کو شکنجے میں پھنسانے کی کوشش کی لیکن تاجروں نے تاریخ ساز ملک گیر ہڑتال کرکے ایف بی آر کو ظالمانہ ٹیکسز واپس لینے پر مجبور کیا کاشف چوہدری نے کہا کہ ایف بی ار میں کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے راتوں رات ترمیمی ارڈیننس لایا گیا اگر کسی نے تاجروں کے اکاونٹس منجمد کیے تو ہم سخت ردعمل دیں گے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے لئے ایف بی آر کو ٹاسک دیئے جاتے ہیں کاروبار کے لئے جتنی اسانیاں ہونگی اتنی معیشت پروان چڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونگے لیکن اشرافیہ اور بیوروکریسی ایسا ہونے نہیں دیتی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کا حملہ قریب، ایٹمی ہتھیاروں سمیت پوری قوت سے جواب دینگے، پاکستانی سفیرمحمد خالد جمالی بھارت کا حملہ قریب، ایٹمی ہتھیاروں سمیت پوری قوت سے جواب دینگے، پاکستانی سفیرمحمد خالد جمالی وزیراعظم کا پہلگام واقعہ پر ایک بار پھر غیر جانبدار اور شفاف عالمی تحقیقات کا اعادہ پی ایم اے اسلام آبادکا ہنگامی اجلاس، اسپتالوں کی نجکاری کا منصوبہ مسترد پاک بھارت کشیدگی،وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، اہم امور پر گفتگو پی ٹی آئی کا پاک بھارت کشیدگی پر حکومتی بریفنگ میں شرکت کرنے سے انکار عجب کرپشن کی غضب کہانی ، پی اے آر سی کو 2کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد کا چوناCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مرکزی تنظیم تاجران کاشف چوہدری نے ٹیکس افسران
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔