جماعت اسلامی کے امیر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پہلگام واقعے پر تحقیقات سے بھاگ رہا ہے، امریکی نائب صدر کے بیان سے بھارت کے موقف کو درست کرنے کا تاثر مل رہا ہے، چین کی حمایت پر خراج تحسین، قومی یکجہتی وقت کی ضرورت، بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہوگا۔  اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پہلگام میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن پر امریکی نائب صدر کے بیان کی شدید مذمت کی اور حکومت ِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی سفیر کو طلب کرے اور پوچھے کہ ان کے نائب صدر نے بغیر تحقیقات کے یہ بیان کیسے دیا؟ بھارت پہلگام واقعے پر پاکستان کے تحقیقات کے مطالبے سے بھاگ رہا ہے، امریکی نائب صدر کے بیان سے تاثر ملتا ہے کہ امریکہ بھارت کے موقف کو درست تسلیم کر رہا ہے، ہم اس موقع پر اپنے دوست ملک چین کی حمایت کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اس وقت قومی یکجہتی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ہمیں بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہوگا، 26 اپریل کو فلسطین کے لیے کی جانے والی ملک گیر شٹرڈاون ہڑتال میں پورا بلوچستان بند تھا، ہمیں بلوچوں کو ان کے حقوق دینے ہوں گے، لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔

پاک بھارت کشیدگی کی صورتحال میں مسئلہ فلسطین و اہل غزہ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، دونوں محاذوں پر کام کرنا ہوگا، اسرائیل اور بھارت دونوں کو امریکی حمایت حاصل ہے اور تینوں کا ایک شیطانی اتحاد ہے، بڑے شہروں میں ملین مارچ اور 26 اپریل کی ملک گیر شٹر ڈاون ہڑتال کے بعد 17مئی کو ایبٹ آباد اور 18مئی کو مالا کنڈ میں عظیم الشان اور تاریخی یکجہتی غزہ مارچ کیا جائے گا اور صہیونی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بھی تیز اور موثر بنائی جائے گی۔ کراچی ملک کا اقتصادی حب ہے لیکن اس کے ساتھ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت بدترین سلوک کر رہی ہے اور پیپلزپارٹی کی کراچی دشمنی مسلسل جاری ہے، کے فور منصوبہ تاحال نا مکمل ہے، ہائیڈرینٹس کو تو پانی مل جاتا ہے لیکن شہریوں کے گھروں کے نلکوں میں پانی نہیں آتا اور عوام مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔ 

امیر جماعت نے کہا کہ غزہ میں امریکی سرپرستی میں اسرائیلی دہشت گردی جاری ہے، وہاں اب تک تقریبا52 ہزار افراد شہید ہوچکے ہیں، افسوس کہ مسلم دنیا کے حکمران اپنے اقتدار کے خاطر امریکہ کے آگے سربسجود ہیں، اسرائیل نے اب شام پر بھی بمباری شروع کردی ہے اور وہ وہاں مختلف سازشیں کرکے خانہ جنگی کروانا چاہتا ہے، وہ لبنان پر بھی حملے کررہا ہے اور ایران کو اس نے نشانے پر رکھا ہوا ہے، اسرائیل صہیونیوں کی بات کرتا ہے اور بھارت ہندوتوا کی اور ان دونوں کو امریکہ کی حماعت حاصل ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک کی پالیسیاں امریکہ کے حکم پر بنتی ہیں، ہماری معیشت اس کے یہاں گروی ہے، جماعت اسلامی نے پاکستان میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کو ازسرنو منظم کیا ہے اور اہل غزہ سے یکجہتی و بائیکاٹ مہم تیزی سے جاری ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ بھارت نے پہلگام میں اپنے ہی سیاحوں کو قتل کرکے جو فالس فلیگ آپریشن کیا ہے، یہ پہلا آپریشن نہیں ہے، اس سے پہلے بھی یہ کبھی تاج ہوٹل کبھی پارلیمنٹ پر حملہ کروا چکا ہے، کبھی یہ الفاران نامی تنظیم بناکر سیاحوں کو اغوا اور کبھی سکھوں کا قتل کرواتا ہے، بھارت پاکستان کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے سے بھاگ رہا ہے، بھارت کی آبی دہشت گردی کا تو کوئی تذکرہ ہی نہیں کررہا، بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا ہے، اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا، اس حوالے سے پاکستان کو اپنی سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہیئے، پاکستان جب سے امریکہ کی جنگ میں کودا ہے، یہاں پر بم دھماکے، ڈرون حملے ہونے لگے، ریمنڈ ڈیوس جیسے کردار یہاں آکر اپنا کھیل کھیلنے لگ گئے، قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ کے حوالے کردیا گیا، امریکی جنگ میں کودنے کے بعد پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد لوگ قتل ہوچکے ہیں جس میں ہماری فوج کا بھی بہت بڑا نقصان ہوا ہے، معیشت کو تقریبا دو سو ملین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی نائب صدر رہا ہے کیا ہے ہے اور

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت