امریکی نائب صدر کا بیان قابل مذمت، حکومت امریکی سفیر کو طلب کرے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
جماعت اسلامی کے امیر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پہلگام واقعے پر تحقیقات سے بھاگ رہا ہے، امریکی نائب صدر کے بیان سے بھارت کے موقف کو درست کرنے کا تاثر مل رہا ہے، چین کی حمایت پر خراج تحسین، قومی یکجہتی وقت کی ضرورت، بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پہلگام میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن پر امریکی نائب صدر کے بیان کی شدید مذمت کی اور حکومت ِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی سفیر کو طلب کرے اور پوچھے کہ ان کے نائب صدر نے بغیر تحقیقات کے یہ بیان کیسے دیا؟ بھارت پہلگام واقعے پر پاکستان کے تحقیقات کے مطالبے سے بھاگ رہا ہے، امریکی نائب صدر کے بیان سے تاثر ملتا ہے کہ امریکہ بھارت کے موقف کو درست تسلیم کر رہا ہے، ہم اس موقع پر اپنے دوست ملک چین کی حمایت کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اس وقت قومی یکجہتی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ہمیں بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہوگا، 26 اپریل کو فلسطین کے لیے کی جانے والی ملک گیر شٹرڈاون ہڑتال میں پورا بلوچستان بند تھا، ہمیں بلوچوں کو ان کے حقوق دینے ہوں گے، لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔
پاک بھارت کشیدگی کی صورتحال میں مسئلہ فلسطین و اہل غزہ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، دونوں محاذوں پر کام کرنا ہوگا، اسرائیل اور بھارت دونوں کو امریکی حمایت حاصل ہے اور تینوں کا ایک شیطانی اتحاد ہے، بڑے شہروں میں ملین مارچ اور 26 اپریل کی ملک گیر شٹر ڈاون ہڑتال کے بعد 17مئی کو ایبٹ آباد اور 18مئی کو مالا کنڈ میں عظیم الشان اور تاریخی یکجہتی غزہ مارچ کیا جائے گا اور صہیونی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بھی تیز اور موثر بنائی جائے گی۔ کراچی ملک کا اقتصادی حب ہے لیکن اس کے ساتھ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت بدترین سلوک کر رہی ہے اور پیپلزپارٹی کی کراچی دشمنی مسلسل جاری ہے، کے فور منصوبہ تاحال نا مکمل ہے، ہائیڈرینٹس کو تو پانی مل جاتا ہے لیکن شہریوں کے گھروں کے نلکوں میں پانی نہیں آتا اور عوام مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ غزہ میں امریکی سرپرستی میں اسرائیلی دہشت گردی جاری ہے، وہاں اب تک تقریبا52 ہزار افراد شہید ہوچکے ہیں، افسوس کہ مسلم دنیا کے حکمران اپنے اقتدار کے خاطر امریکہ کے آگے سربسجود ہیں، اسرائیل نے اب شام پر بھی بمباری شروع کردی ہے اور وہ وہاں مختلف سازشیں کرکے خانہ جنگی کروانا چاہتا ہے، وہ لبنان پر بھی حملے کررہا ہے اور ایران کو اس نے نشانے پر رکھا ہوا ہے، اسرائیل صہیونیوں کی بات کرتا ہے اور بھارت ہندوتوا کی اور ان دونوں کو امریکہ کی حماعت حاصل ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک کی پالیسیاں امریکہ کے حکم پر بنتی ہیں، ہماری معیشت اس کے یہاں گروی ہے، جماعت اسلامی نے پاکستان میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کو ازسرنو منظم کیا ہے اور اہل غزہ سے یکجہتی و بائیکاٹ مہم تیزی سے جاری ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ بھارت نے پہلگام میں اپنے ہی سیاحوں کو قتل کرکے جو فالس فلیگ آپریشن کیا ہے، یہ پہلا آپریشن نہیں ہے، اس سے پہلے بھی یہ کبھی تاج ہوٹل کبھی پارلیمنٹ پر حملہ کروا چکا ہے، کبھی یہ الفاران نامی تنظیم بناکر سیاحوں کو اغوا اور کبھی سکھوں کا قتل کرواتا ہے، بھارت پاکستان کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے سے بھاگ رہا ہے، بھارت کی آبی دہشت گردی کا تو کوئی تذکرہ ہی نہیں کررہا، بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا ہے، اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا، اس حوالے سے پاکستان کو اپنی سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہیئے، پاکستان جب سے امریکہ کی جنگ میں کودا ہے، یہاں پر بم دھماکے، ڈرون حملے ہونے لگے، ریمنڈ ڈیوس جیسے کردار یہاں آکر اپنا کھیل کھیلنے لگ گئے، قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ کے حوالے کردیا گیا، امریکی جنگ میں کودنے کے بعد پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد لوگ قتل ہوچکے ہیں جس میں ہماری فوج کا بھی بہت بڑا نقصان ہوا ہے، معیشت کو تقریبا دو سو ملین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی نائب صدر رہا ہے کیا ہے ہے اور
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب