پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے کوششیں تیز، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کل پاکستان پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
عباس عراقچی پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد بھارت کے دورے پر نئی دہلی جائیں گے—فائل فوٹو
ایران نے بھی پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دیں، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کل اسلام آباد پہنچیں گے اور پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد بھارت کے دورے پر نئی دہلی جائیں گے، دونوں ملکوں کے دورے کا مقصد پہلگام واقعے کے بعد ہونے والی کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
پاکستان نے خطے کی تازہ صورتِ حال پر اقومِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کا فیصلہ کر لیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی کیلئے ثالثی کی پیشکش کی تھی، جبکہ 26 نومبر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ دورۂ پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات ہو گی۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عراقچی صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اورنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کریں گے۔
شہباز شریف نے پہلگام واقعے کو بغیر ثبوت پاکستان سے منسوب کرنےکو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی شفاف، معتبر اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کو دہرایا۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ کا دورہ پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کشیدگی میں کمی عباس عراقچی ایرانی وزیر شہباز شریف
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔