امریکا کے شہری ٹم فریڈے نے 18 سال تک سانپوں کا زہر اپنی رگوں میں انجیکٹ کر کے خود کو مدافعتی بنایا، اور اب انہی کے خون سے ماہرین نے تاریخ کا سب سے مؤثر اینٹی وینم تیار کر لیا ہے جو 19 خطرناک سانپوں کے زہر سے بچاؤ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹم فریڈے نے اپنے جسم میں 700 سے زائد بار سانپوں کا زہر داخل کیا، جس کے نتیجے میں اس کے جسم نے ایسے نایاب اینٹی باڈیز پیدا کیے جو عام انسانوں میں نہیں پائے جاتے۔ انہی اینٹی باڈیز کو استعمال کرتے ہوئے امریکی تحقیقاتی ٹیم نے نیا تجرباتی علاج تیار کیا ہے۔

یہ تحقیق معروف جریدے "Cell" میں شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا کہ نیا اینٹی وینم 13 اقسام کے سانپوں کے زہر سے مکمل تحفظ اور بقیہ 6 سے جزوی تحفظ دیتا ہے۔ تحقیق فی الحال صرف چوہوں پر کی گئی ہے، مگر ماہرین اسے سانپ کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے بڑا بریک تھرو قرار دے رہے ہیں۔

پروفیسر پیٹر کوانگ کے مطابق: "ٹم کی اینٹی باڈیز غیر معمولی ہیں۔ اس نے اپنے مدافعتی نظام کو غیر معمولی سطح پر تربیت دی ہے۔"

یہ نیا علاج خاص طور پر ایلپیڈ سانپوں (جیسے کوبرا، مامبا، ٹائی پان) کے خلاف مؤثر ہے، جن کا زہر اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کا تعلق Centivax بایوٹیک کمپنی سے ہے جس کے سربراہ ڈاکٹر جیکب گلین ول نے کہا: "ہمیں یقین تھا کہ اگر کوئی ایسا اینٹی باڈی رکھتا ہے، تو وہ ٹم ہی ہو سکتا ہے۔"

تاہم ماہرین نے احتیاط کی ہدایت دی ہے کیونکہ یہ دوا ابھی تک انسانوں یا وائپر سانپوں پر آزمائی نہیں گئی، جو بھارت جیسے ممالک میں سالانہ 60 ہزار ہلاکتوں کا سبب بنتے ہیں۔

مزید تجربات آسٹریلیا میں کتوں پر جاری ہیں، اور اگر یہ کامیاب رہے تو یہ عالمی سطح پر سانپ کے زہر کے خلاف ایک یونیورسل علاج بن سکتا ہے۔

ٹم فریڈے، جو پہلے ایک ٹرک مکینک تھا، نے کہا: "یہ میری زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔ میں ان لوگوں کے لیے لڑ رہا تھا جو مجھ سے ہزاروں میل دور رہتے ہیں اور سانپ کے کاٹے سے مر جاتے ہیں۔"


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا زہر

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار