یروشیلم (اوصاف نیوز)یمنی حوثیوں کی جانب سے داغا گیا بیلسٹک میزائل اسرائیل کے مرکزی بن گوریون انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے احاطے میں آ گرا،حوثیوں کی طویل مار کرنے کی صلاحیت سے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق میزائل گرنے کے نتیجے میں ائیر پورٹ کی ایک سڑک اور گاڑی کو نقصان پہنچا اور فضائی آمدورفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی، حملے میں 8 افراد زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی صبح داغے گئے میزائل کو روکنے کی متعدد کوششوں کے باوجود اسرائیلی دفاعی نظام اسے تباہ کرنے میں ناکام رہا۔

حوثیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے اس حملے کے بعد ائیرلائنز کو خبردار کیا ہے کہ بن گوریون ائیرپورٹ اب فضائی سفر کے لیے محفوظ نہیں رہا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بیلسٹک میزائل نے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور امریکی اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظام اسے گرانے میں ناکام رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میزائل حملے کے نتیجے میں 30 لاکھ سے زائد اسرائیلی میزائل حملوں سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے شیلٹرز میں پناہ لینے میں مجبور ہوئے جبکہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک بن گوریون ائیرپورٹ بھی بند رہا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن میں امریکی فوج کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر بمباری جاری ہے۔
پہلگام حملے کے بعد قومی سلامتی پر ان کیمرہ سیشن، ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر اطلاعات کی سیاسی قائدین کو بریفنگ

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بن گوریون

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم