انکم ٹیکس آرڈیننس کے اہم نکات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی وصولیاں بہتر بنانے کےلیے سخت انکم ٹیکس آرڈیننس کے اہم نکات سامنے آگئے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق چیف کمشنر کسی بھی کاروباری جگہ افسر تعینات کر سکے گا۔ پیداوار، سروسز اور اسٹاکس کی براہ راست نگرانی ہوگی، اس عمل سے بڑے ہیمانے پر کم سیل دکھانے کا خاتمہ ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال، تعلیمی اداروں اور سروس سیکٹر میں بھی تعیناتی ہو سکے گی، کورٹ فیصلے کی موجودگی پر بلانوٹس بینک سے ٹیکس رقم کاٹی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیے تاجر برادری کا انکم ٹیکس آرڈیننس کیخلاف ملک گیر احتجاج کا عندیہ ایف بی آر نے کالا دھن رکھنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیاآرڈیننس میں ایف ای ڈی سے بچنے کے لیے جعلی بار کوڈ، لیبل یا اسٹیمپ مجرمانہ عمل قرار دے دیا گیا۔
ذرائع نے کہا کہ ایف بی آر دیگر صوبائی یا وفاقی افسران کو چیکنگ، ضبطگی یا معائنہ جیسے اختیار دے سکتا ہے، آرڈیننس فوری نافذ العمل ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایف بی
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔