Islam Times:
2026-07-24@07:43:56 GMT

فلسطین پر خاموشی ناقابل معافی جرم ہے، علامہ جواد نقوی

اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT

فلسطین پر خاموشی ناقابل معافی جرم ہے، علامہ جواد نقوی

تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مفروضہ نہیں، بلکہ عملی حقیقت ہے۔ سب نے دیکھا کہ کیسے بعض عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے، کیسے فلسطینیوں کی پشت میں خنجر گھونپا گیا اور کیسے مسجد اقصیٰ کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ مگر تاریخ نے دیکھا کہ یہ تمام کوششیں، یہ تمام گھناؤنے منصوبے، حماس، حزب اللہ، انصاراللہ اور ایران کے نظریاتی ومزاحمتی محور نے خاک میں ملا دیئے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عصر حاضر میں میڈیا کی طاقت، سیاسی بیان بازی اور سوشل نیریٹیوز انسانی شعور کو کنٹرول کرنے کے بڑے ہتھیار بن چکے ہیں۔ انہی ہتھیاروں کے ذریعے ایک خطرناک، مگر منظم سازش مسلسل بروئے کار ہے، وہ ہے فلسطین فراموشی کی سازش۔ انہوں نے کہا کہ یہ سازش صرف اسرائیل یا امریکہ تک محدود نہیں بلکہ عرب حکمران بھی اس سازش کا حصہ اور صیہونی مفادات کے محافظ بن چکے ہیں۔ عرب سرمایہ، اربوں ڈالرز کے منصوبوں میں صرف ہو رہا ہے مگر نہ غزہ کیلئے، نہ اقصیٰ کے لیے، نہ فلسطینی یتیموں اور بیواؤں کیلئے، بلکہ فلسطین کو تاریخ کے صفحے سے مٹانے کیلئے اور ان کا منصوبہ یہ ہے کہ جب فلسطین فراموش ہو جائے گا، تو دوسرا مرحلہ شروع ہو گا، فلسطین فروشی یعنی پہلے فراموش کرنا چاہتے ہیں پھر فروخت کرنا ہے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی مفروضہ نہیں، بلکہ عملی حقیقت ہے۔ سب نے دیکھا کہ کیسے بعض عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے، کیسے فلسطینیوں کی پشت میں خنجر گھونپا گیا اور کیسے مسجد اقصیٰ کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ مگر تاریخ نے دیکھا کہ یہ تمام کوششیں، یہ تمام گھناؤنے منصوبے، حماس، حزب اللہ، انصاراللہ اور ایران کے نظریاتی ومزاحمتی محور نے خاک میں ملا دیئے۔ انہوں نے دنیا کو باور کرایا کہ فلسطین کو بھلانا ممکن نہیں اور فلسطین کو بیچنا بھی ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کی آج بھی، جب جنگ بندی کا اعلان ہوتا ہے، تو درپردہ ایک اور یلغار شروع ہو جاتی ہے اور عین اسی لمحے میڈیا خاموش ہو جاتا ہے، سیاسی پنڈت نئے موضوعات کو اچھالتے ہیں اور رائے عامہ کو غزہ سے ہٹا کرمصنوعی فکری معرکوں میں الجھا دیا جاتا ہے۔ لیکن زمینی حقیقت کیا ہے؟ وہ یہ کہ غزہ آج بھی جل رہا ہے۔ اقصیٰ آج بھی مقبوضہ ہے۔ فلسطینی بچے آج بھی کفن کے بغیر دفن ہوتے ہیں۔ دن رات غزہ میں بمباری جاری ہے، ہم خاموش ہیں۔ ہمارے ممبران اسمبلی نے فلسطین کا ذکر کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
 
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ فلسطین فراموشی جرم ہے، غزہ کے زخموں کو نظرانداز کرنا جرم ہے۔ اقصیٰ کے در و دیوار سے آنکھیں چرانا جرم ہے اور یہ جرم اگر کسی عام فرد سے سرزد ہو تو ہو سکتا ہے کہ معاف ہو جائے، مگر اگر یہ جرم کسی عالمِ دین سے ہو، کسی حکمران سے ہو، کسی میڈیا پرسن، دانشور، پروفیسر، بیوروکریٹ یا سیاسی رہنما سے ہو تو یہ ایک ناقابلِ معافی خیانت بن جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے دیکھا کہ یہ تمام آج بھی جرم ہے

پڑھیں:

ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری

سٹی 42: ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی  لاہور پہنچ گئے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کا استقبال کیا۔
گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان ودیگرایئرپورٹ پر موجود تھے۔ایرانی وزیر داخلہ نے  مزاراقبال اور دربار بی بی پاکدامن پر حاضری دی ۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر پنجاب سلیم حیدر خان بھی ہمراہ تھے۔
ایرانی وزیر داخلہ نے مزار اقبال پر پھول رکھے ،امن و استحکام کیلئے دعا کی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی


 

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری