ایران نے امریکا اور اسرائیل کی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ کوئی بھی کسی خوش فہمی نہ رہے۔ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو دو ٹوک جواب دیں گے۔

ایرانی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکی فوجی اڈے ہمارے نشانے پر ہیں، اگر خود امریکا یا پھر اسرائیل نے کوئی جارحیت دکھائی تو ان اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔

وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ نے مزید کہا کہ ایران کی امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ درست موقع پر درست جواب دیں گے۔  

یاد رہے کہ حوثیوں کے حملوں پر اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دھمکی دی تھی کہ حوثی باز نہ آئے تو ان کے سرپرست ایران کو نشانہ بنائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم حوثیوں کو اُس وقت اور اُس جگہ جواب دیں گے جو ہم منتخب کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی ایک سابق پوسٹ دوبارہ وائرل ہورہی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حوثیوں کے حملوں کے پیچھے ایران ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ حوثیوں کے حملوں کا منبع ایران ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جواب دیں گے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی