بھارت کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا، کشیدگی خطے کے مفاد میں نہیں، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا، پاک بھارت کشیدگی کم ہونا خطے اور سب کے مفاد میں ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ نریندر مودی کے خلاف اس کی اپنی حکومت کے لوگ اور عوام بول رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ سوال کررہے ہیں پہلگام واقعے کے 10 منٹ میں کیسے ایف آئی آر درج ہوئی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہم تو غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کےلیے تیار ہیں، بھارت کو سمجھ نہیں آرہا کہ الزام تو لگادیا اب آگے کچھ کہنے کو نہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس حملے کے وقت کالعدم بی ایل اے کے دہشت گرد بھارتی چینلز پر بیٹھے ہوئے تھے۔
عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ واضح موقف دیا ہے کہ پانی روکنے یا رخ موڑنے کی کوشش سے پوری قوت سے نمٹا جائے گا، اپنے پانی کے حق کے دفاع کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کنفرم رپورٹس تھیں لیکن حملے کی ان کی ہمت نہیں ہوئی، کوئی جارحیت ہوئی تو ہم مکمل طور پر تیار ہیں ہمارا جواب ان کی نسلوں کو یاد رہے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا، پاک بھارت کشیدگی کم ہونا خطے اور سب کے مفاد میں ہے، پاکستان کسی بھی جارحیت کا کئی گنا زیادہ جواب دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ عطا تارڑ بھارت کو
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔