وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا، پاک بھارت کشیدگی کم ہونا خطے اور سب کے مفاد میں ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ نریندر مودی کے خلاف اس کی اپنی حکومت کے لوگ اور عوام بول رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ سوال کررہے ہیں پہلگام واقعے کے 10 منٹ میں کیسے ایف آئی آر درج ہوئی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہم تو غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کےلیے تیار ہیں، بھارت کو سمجھ نہیں آرہا کہ الزام تو لگادیا اب آگے کچھ کہنے کو نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس حملے کے وقت کالعدم بی ایل اے کے دہشت گرد بھارتی چینلز پر بیٹھے ہوئے تھے۔

عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ واضح موقف دیا ہے کہ پانی روکنے یا رخ موڑنے کی کوشش سے پوری قوت سے نمٹا جائے گا، اپنے پانی کے حق کے دفاع کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کنفرم رپورٹس تھیں لیکن حملے کی ان کی ہمت نہیں ہوئی، کوئی جارحیت ہوئی تو ہم مکمل طور پر تیار ہیں ہمارا جواب ان کی نسلوں کو یاد رہے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا، پاک بھارت کشیدگی کم ہونا خطے اور سب کے مفاد میں ہے، پاکستان کسی بھی جارحیت کا کئی گنا زیادہ جواب دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ عطا تارڑ بھارت کو

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے