30 غیر ملکی پروازوں کے رخ موڑ دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
فائل فوٹو
اسلام آباد، لاہور، کراچی، ملتان، فیصل آباد اور سیالکوٹ کی 30 غیر ملکی پروازوں کے رخ موڑ دیے گئے۔
ابوظہبی لاہور کی پرواز ای وائی 284، ریاض لاہور کی پرواز ایکس وائی 317، استنبول لاہور ٹی کے 714 واپس کردی گئیں۔
جدہ لاہور ایس وی 738 کو کراچی، دبئی لاہور ای کے 622 کو واپس دبئی، دوحہ لاہور کیو آر 620 کو واپس دوحہ موڑ دیا گیا۔
جدہ لاہور پی کے 842 کو کراچی ریاض اسلام آباد کی پرواز ایف ایل 781 کو شارجہ موڑ دیا گیا، نجف سے اسلام آباد کی پرواز ائی اے 433 کو واپس موڑ دیا گیا۔
ترکش ایئر کی پرواز ٹی کے 710 کو اسلام آباد کے راستے سے استنبول واپس بھیج دیا گیا۔
کویت ایئر لائن کی پرواز کے یو 205 کو اسلام آباد کے راستے سے واپس کر دیا گیا، بحرین اسلام آباد کی پرواز ایف ایل 765 کو شارجہ اتار لیا گیا۔
ریاض اسلام آباد کی پرواز ایکس وائی 315 کو بھی واپس ریاض موڑ دیا گیا،
ابوظہبی اسلام اباد کی پرواز ای وائی 302 کو واپس اتار لیا گیا۔
دمام اسلام آباد کی پرواز پی کے 240 کو کراچی اتار لیا گیا، دوحہ سے اسلام آباد کی پرواز کیو آر 632 کو واپس قطر موڑ دیا گیا، جدہ اسلام اباد کی پرواز ایس وی 726 کو کراچی اتار لیا گیا۔
دبئی سیالکوٹ کی پرواز ای کے 618 کو پاکستانی حدود سے دبئی بھیج دیا گیا، دوحہ سیالکوٹ کی پرواز کیو آر 630 کو واپس دوحہ اتار لیا گیا۔
شارجہ، سیالکوٹ کی پرواز جی 5952 کو بھی واپس موڑ دیا گیا، دوحہ کراچی کی پرواز کیو آر 604، استنبول کراچی کی پرواز پی سی 130 بھی واپس روانہ کردی گئی۔
شارجہ کراچی کی پرواز جی 9548، ابوظہی کراچی کی پرواز ای وائی 296 بھی کو واپس موڑ دیا گیا۔
دوحہ سے ملتان کے لیے روانہ پرواز کیو آر 616 کو واپس بلا لیا گیا، دبئی سے ملتان کے لیے روانہ ایف زیڈ 339 بھی واپس موڑ دی گئی۔
شارجہ فیصل آباد جی 9562 دبئی فیصل آباد ایف زیڈ 355 کو بھی واپس شارجہ اور دبئی اتار لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد کی پرواز کراچی کی پرواز پرواز کیو ا ر اتار لیا گیا کی پرواز ای موڑ دیا گیا سیالکوٹ کی کو کراچی بھی واپس واپس موڑ کو واپس
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم