ایبٹ آباد کے تاجر کا بھارتی حملے میں شہید ہونے والی مساجد کی تعمیر اپنے خرچ پر کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ابیٹ آباد کے تاجر زبیع اللّٰہ نے بھارت کی جانب سے حملے میں شہید ہونے والی مساجد کی تعمیر اپنے خرچ پر کرانے کا اعلان کردیا۔
ذبیع اللہ کا کہنا تھا کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں مساجد و سول آبادی پر حملہ کیا جس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
دوسری جانب بھارت کے رات کی تاریکی میں سویلین آبادی پر بزدلانہ حملے کے بعد پاکستانی عوام کے سر پر خون سوار ہے۔
پاکستانی عوام نے پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پیغام دیا کہ وہ فوجی جوانوں کے شانہ بشانہ بھارت میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔
پاکستانی عوام کا کہنا تھا کہ انڈیا کو ہم نہیں چھوڑیں گے، شروع انہوں نے کیا اب ختم ہم کریں گے، پوری قوم دشمن کے مقابلے میں ایک سیسا پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔
پاکستانی شہریوں نے کہا کہ بھارت ایک بزدل دشمن ہے جس نے رات کی تاریکی میں نہتے معصوموں پر حملہ کیا مگر ہم ایسا نہیں کریں گے، ہم تمہیں اندر گھس کر ماریں گے۔
پاکستانی عوام نے کہا کہ ہم اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور بھارت کو یہ پیغام دیا کہ تمہارے پاس جلد پہنچنے والے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستانی عوام
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔