پاک بھارت کشیدگی، رافیل طیارے بنانے والے ملک فرانس کا بیان بھی آگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
پیرس (نیوز ڈیسک) فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر فضائی حملوں کے بعد دہلی اور اسلام آباد سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
برطانوی خبررساںادارے کے مطابق اسلام آباد نے ان حملوں کو “بزدلانہ کارروائی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کا جواب “اپنے منتخب کردہ وقت اور مقام پر” دے گا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نوئل بارو نے ایک فرانسیسی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا “ہم بھارت کی دہشتگردی کے عفریت سے خود کو محفوظ رکھنے کی خواہش کو سمجھتے ہیں، لیکن ہم دونوں ممالک، بھارت اور پاکستان سے واضح طور پر اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔”
خیال رہے کہ پاکستان کی طرف سے گزشتہ رات کی جوابی کارروائی میں بھارت کے پانچ طیارے گرائے گئے ہیں ۔ تباہ ہونے والے تین طیاروں کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ بھارت کے پانچ طیارے اور ایک کمبیٹ ڈرون گرایا گیاہے ۔ گرائے جانے والے طیاروں میں تین رافیل، ایک مگ 29 اور ایک ایس یو 30 طیارہ شامل ہے ۔اس کے علاوہ ایک ہیرون کمبیٹ ڈرون بھی اس میں شامل ہے ۔یہ طیارے بھٹنڈا ، جموں ، ایوانتی پور، اکھنور اور ایک سری نگر میں گرائے گئے۔
مزیدپڑھیں:بھارت کشیدگی کے تناظر میں ایف 16 بنانے والی کمپنی کا ’معنی خیز‘ بیان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔