پاک-بھارت کشیدگی کے دوران سرحدی علاقوں کے شہری معمول کے مطابق کاموں میں مشغول
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
لاہور:
بھارت کے ساتھ کشیدگی اور تناؤ کے باوجود لاہور کے سرحدی علاقوں میں لوگ کسی ڈر اور خوف کے بغیر روز مرہ کے کاموں میں مشغول رہے جبکہ سوشل میڈیا پر بعض سرحدی دیہاتوں سے لوگوں کی نقل مکانی کی بے بنیاد افواہیں پھیلائی جاتی رہیں۔
ایکسپریس نیوز کی ٹیم نے لاہور کے سرحدی علاقوں کے مختلف دیہات جن میں ایچوگل، بھسین، لبان والا، واہگہ، بھانو چک، نروڑ اور منہالہ کا دورہ کیا جہاں لوگ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشغول نظر آئے۔
چائے کی دکانوں اور تھڑوں پر بیٹھے بزرگ پاک-بھارت کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورت پر گفتگو اور تبصرے کرتے رہے، بعض علاقوں سے چند ایک خاندانوں نے اپنے بچوں اور خواتین کو لاہور کی طرف منتقل ضرور کیا ہے لیکن مجموعی طور پر صورت حال پرامن نظر آئی۔
واہگہ بارڈر کے قریب ایک ڈھابے پر بیٹھے بزرگ محمد اشرف کا کہنا تھا کہ بھارت کو پاکستان کی فوج نےجس طرح منہ توڑجواب دیا ہے وہ اب دوبارہ حملے کی ہمت نہیں کرے گا۔
ایک نوجوان عبدالرحمان نے کہا کہ 2009 میں جب پاکستان اور انڈیا کے حالات خراب ہوئے تھے تو اس وقت بارڈر ایریا کے کئی علاقے خالی کروالیے گئے تھے جبکہ اس وقت زیادہ ترلوگ افواہوں کا شکار ہوئے اور ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی علاقے چھوڑ گئے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کی وجہ سے لوگ باخبر ہیں اور انہیں اندازہ ہے کہ انڈیا اس محاذ پر پاکستان سے کوئی پنگا نہیں لےگا۔
شہری ابراہیم کا کہنا تھا کہ اب روایتی جنگوں کا دور نہیں رہا، جس طرح 1965 اور 1971 میں لڑی گئی تھیں اب جدید ہتھیاروں کا دور ہے، اس لیے اپنا گھربار چھوڑ کر جانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم مسلمان ہیں ہمارا ایمان ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے، ڈر کربھاگ جانے سے موت ٹل نہیں جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بارڈر ایریا کے بہادر عوام اپنی فوج اور رینجرز کے شانہ بشانہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔