WE News:
2026-06-03@01:54:29 GMT

پاک بھارت ٹکراؤ: چند سوالات اور ان کے جواب

اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT

  گزشتہ رات بھارت نے جو میزائل حملہ کیا، اس سے ہونے والے نقصانات قوم کے سامنے آ چکے ہیں، پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کی، وہ بھی آپ لوگ اچھی طرح جان چکے ہوں گے، تکرار سے بچنے کے لیے اس  تفصیل سے میں گریز کر کے آگے بڑھتا ہوں۔

  بھارتی حملے کے حوالے سے ایک بیانیہ بھارتی میڈیا بیان کر رہا ہے، حد درجہ مبالغہ آمیز، جھوٹ اور سنسنی خیزی کی انتہا کو چھوتا ہوا اور بے سروپا۔ ایک بیانیہ پاکستانی میڈیا بیان کر رہا ہے، بھارتی میڈیا کو کاونٹر کرتا ہوا، تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی کوشش کرتا۔

جنگوں میں کسی بھی ملک کے نیشنل میڈیا کے لیے مکمل غیر جانبدار رہنا مشکل ہوتا ہے۔ سو طرح کے پریکٹیکل مسائل ہوتے ہیں، پروفیشنل ازم اور حب الوطنی میں کشمکش بھی۔ اس کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستانی میڈیا بھارتی میڈیا سے کئی گنا زیادہ ذمہ دار اور میچور ثابت ہوا، پاکستانی سوشل میڈیا تو بھارتی سوشل میڈیا اور ولاگرز، ٹک ٹاکرز وغیرہ سےکئی سو گنا زیادہ سمجھدار، باخبر اور میچور لگے۔

  ان دونوں اقسام کے بیانیہ کے ساتھ ایک اور بیانیہ بھی پاکستانی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ ان ناراض اور شاکی پاکستانی سیاسی کارکنوں کا  جو اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کی پالیسیوں سے کچھ عرصے سے سخت ناخوش ہیں۔ ان کا طریقہ کار یہی ہے کہ کوئی معلوم یانامعلوم شخص اپنے نازک دماغ پر زور ڈال کر ایک مضمون لکھ مارتا ہے اور پھر دے دنا دن ، ہر جگہ پر اس کے حامی اسے ہی کاپی پیسٹ کر دیتے ہیں۔ کہیں پوسٹ بنا دی، کہیں پر کمنٹس میں چپکا ڈالا۔

آج صبح سے ایک ایسا ہی مضمون گردش کر رہا ہے، اسے لکھنے والے نے اپنا نام شاید عوامی ردعمل کے خوف سےنہیں لکھا۔سوشل میڈیا کو دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، مگر لکھتے ہوئے حقائق تو مسخ نہ کئے جائیں، ہم اس مضمون اور اس میں دئیے گئے سوالات پرنظر ڈالتے ہیں۔

  پہلا سوال: آخر انڈیا نےسینکڑوں کلومیٹر دور سے 100 فی صد درستی کے ساتھ مدارس کو نشانہ کیسے بنایا؟

  اس سوال کا آخر کیا جواب دیا جائے؟ بھائی جدید دور ہے، جدید ٹیکنالوجی کے تحت سینکڑوں کلومیٹر دور سے بلکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے بھی اہداف کو درست نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟ پاکستان کے پاس بھی یہ صلاحیت موجود ہے، جب میزائل تجربات کیے جاتے ہیں تو ان میں 20 سے 50 میٹر تک کے رقبے تک کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، یعنی اگر ایک مکان پر حملہ کیا گیا توعین ممکن ہے ملحقہ دیوار والا مکان سلامت رہے اور صرف ہدف تباہ ہو۔

  دوسرا (طنزیہ )سوال: پاکستان کا اربوں ڈالر کا اینٹی میزائل سسٹم آخر ان میزائلوں کوپکڑنے (INTERCEPT)کرنے میں کیسے ناکام رہا؟

  پہلی بات تو یہ کہ پاکستان کے پاس اربوں ڈالر کا مہنگا اینٹی میزائل سسٹم نہیں جیسا کہ بھارت نے اپنے بڑے دفاعی بجٹ کے حساب سے ایس چارسو(S400) لے رکھا ہے۔ پاکستان کے پاس تاہم مقامی طور پر تیار کردہ مختلف قسم کے اینٹی میزائل سسٹمز کے ساتھ جدید چینی ساختہ اینٹی میزائل سسٹم ایچ کیو نائن (HQ-9)موجود ہے، یہ خاصا جدید اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم ہے اور بیک وقت کئی حملے روک سکتا ہے، اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس بلاتور سسٹم، یوسف ون، پیک تھری،سکائی گارڈ سسٹم وغیرہ موجود ہیں۔ یہ اچھے سسٹم ہیں۔

  یہاں پر البتہ 2 باتیں سمجھ لینا چاہییں، پہلی یہ کہ اینٹی میزائل سسٹم کا یہ مطلب نہیں کہ ملک کے چپے چپے میں ہونے والا ہر میزائل حملہ روکا جا سکتا ہے، خاص طور پر جہاں کئی سو کلومیٹر طویل سرحد ہو، وہاں اس کا امکان رہتا ہے کہ 100 فی صد مقامات پر اینٹی میزائل سسٹمز کی بیٹریز نہ رکھی جا سکیں۔

  یہاں پر اگر کوئی اسرائیل کے اینٹی میزائل سسٹم کی مثال دے تو پہلے یہ سمجھ لیں کہ اسرائیل چھوٹا سا ملک ہے اور اس کی بارڈر زیادہ طویل نہیں، دوسرا اسے دو تین اطراف سے تحفظ حاصل ہے، سمندر کی طرف سے وہ محفوظ ہے، ایک سائیڈ سے مصر ہے جو اس کا اتحادی ملک ہے جبکہ اردن بھی دوستانہ تعلق رکھتا ہے، شام سے بھی اسے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ صرف لبنان میں حزب اللہ یا یمن کے حوثیوں کی طرف سے پھینکے میزائلوں پر نظر رکھتا یا خاص مواقع پر اسے ایرانی میزائلوں کا توڑکرنا تھا۔

  اسرائیل کو  محدود رقبے میں آنے والے میزائلوں کو روکنا تھا، اس کے پاس دنیا کے جدید ترین اور مہنگے ترین اینٹی میزائل سسٹمز موجود ہیں، اس کے باوجود ایرانی بیلسٹک میزائل روکنے میں اس کی امریکا، برطانیہ ، فرانس وغیرہ نے بھرپور مدد کی۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایرانی میزائل اتنے جدید اور تیز رفتار نہیں جتنے ہندوستانی فوج کے میزائل ہیں۔

  دوسرا یہ کہ اینٹی میزائل سسٹمز کو بھی دیکھ بھال کر آن کرنا پڑتا ہے، ورنہ وہ اپنی رینج میں آنے والے ہر طیارے کو ہٹ کر دے گا، خواہ وہ کوئی مسافر طیارہ ہی کیوں نہ ہو۔ بھارت نے غیر ذمہ داری کی انتہا یہ کہ جب حملہ کیا تب کئی ممالک کی 50 کے لگ بھگ پروازیں پاکستانی ائیر سپیس استعمال کر رہی تھیں۔ جب ائیر سپیس اوپن ہو تو پھر اینٹی میزائل سسٹم آن نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کرنے سے پہلے ایک اعلامیہ یا اعلان نوٹم (NOTAM)جاری کرنا پڑتا ہے ، جس کے بعد اس علاقے یا رقبے پر کوئی مسافر طیارہ پرواز نہیں کرسکتا، اگر کوئی غلطی سے ایسا کرے تو ہٹ ہوجائے گا۔ بین الاقوامی قانون یا فوجی ضابطوں کے مطابق نوٹس دینا ضروری ہوتا ہے۔ جیسا کہ اگلے کسی حملے سے بچنے کے لیے پاکستان نے نوٹم جاری کیا اور ائیر سپیس دوسروں کے لیے بند کر دی۔

   تیسری بات یہ ہے کہ پاکستان جیسے درمیانے دفاعی بجٹ رکھنے والے ممالک کے پاس اگر محدود سطح پر اینٹی میزائل نظام ہو تب اہم فوجی اور ملکی سلامتی سے متعلق تنصیبات کے گرد اینٹی میزائل سسٹم رکھا جاتا ہے۔جہاں حملے کا زیادہ خطرہ ہو یا پھر حملے سے ملکی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوجانے کا اندیشہ ہو جیسے نیوکلیئر تنصیبات، اہم ائیر بیس وغیرہ۔

  تیسرا، چوتھا، پانچواں، چھٹا سوال: بھارت نے دیدہ دلیری سے حملے کیوں کیے، کیا اسے عالمی سطح پر تعاون کی یقین دہانی تھی؟ اگر یہ ایئر سٹرائیک تھی تو ہمارا دفاعی نظام کیوں سوتا رہا، بالا کوٹ حملے میں تو طیارے فوری انٹر سیپٹ ہوگئے تھے وغیرہ وغیرہ ۔

  جواب یہ ہے کہ بالا کوٹ حملے میں بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضا میں آ کر کارروائی کی تھی، دراصل تب اس کے پاس نسبتاً پرانے طیارے مگ 29، میراج  وغیرہ تھے۔ آج بھارت کے پاس رافیل جیسا جدید ترین طیارہ موجود ہے جو 200 کلومیٹر سے زیادہ دوری سے فضا سے زمین پر مارکرنے والا سکالپ کروز میزائل استعمال کر سکتا ہے۔ ابھی حملے کے حوالے سے تفصیل سامنے آئے گی، مگر یہ بات یقینی ہے کہ حملے بھارتی سرزمین کے اندر رہتے ہوئے کیے گئے ہیں، اگر ایئر ٹو سرفیس اٹیک تھا تب بھی بھارتی طیارہ پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہوئے اور اگر زمین سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل استعمال ہوئے تب بھی وہ بھارت ہی سے پھینکے گئے۔ بھارتی طیارے پاکستان میں گھستے تو نشانہ بن جاتے۔

 رہی بات عالمی حمایت حاصل ہونے والی تو ابھی تک تو کسی اہم اور قابل ذکر ملک نے بھارت کی کھل کر حمایت نہیں کی۔ سب ہی نے اس حملے کی حوصلہ شکنی کی ہے، صدر ٹرمپ نے تو اپنے ابتدائی ردعمل میں اسے ’شرمناک حملے‘ کہہ ڈالا۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی عقل و فہم والا شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ پاکستان کو ان حملوں کا علم تھا اور پھر بھی یہ ہونے دیے۔ یہ احمقانہ اور زہریلی قسم کی کانسپریسی تھیوری ہے۔

  سوال: پاکستان نے دینی مدارس کیوں بند کرا لیے تھے، کیا انہیں بتا دیا گیا تھا کہ حملہ ہونے والا ہے؟

  ایک چیز ہوتی ہے جسے کامن سینس کہتے ہیں۔ بعض مخالفین اپنے بغض، نفرت اور اندر کے زہر کے باعث اس سےبھی محروم ہوجاتے ہیں۔ ایک خاص طرز کے دینی مدارس پر حملہ متوقع ہوسکتا تھا یعنی اس کا معمولی سا امکان موجود تھا، تب بھی انہیں بند کرا دینا چاہیے تھا۔ اب یہی دیکھ لیں کہ اگر بہاولپور میں  مسجد سبحان اللہ کا مدرسہ خالی نہ ہوتا تو شاید جانی نقصان کئی گنا زیادہ ہو جاتا۔

سوال: بھارت کو پہلگام حملے کے 24 یا 72 گھنٹوں بعد حملہ کرنا چاہیے تھا، مگر اتنے دن گزار کر 9 مئی سے 2 دن پہلے کا انتِخاب کیوں کیا گیا جب یہاں سیاسی احتجاج ہونے والا تھا؟

   اس کا جواب یہی ہے کہ کیڑے نکالنے اور فضول اعتراض کرنے سے پہلے کچھ پڑھ لینا چاہیے، معلومات حاصل کر لی جائیں۔ پلوامہ حملہ 14 فروری کو ہوا تھا، تب بھی بھارت نے تیرھویں دن حملہ کیا تھا۔ یہ قابل فہم بات ہے۔ ایسا حملہ کرتے ہوئے بہت کچھ سوچنا، سمجھنا، حساب کتاب لگانا پڑتا ہے۔ اس بار پندرھویں دن حملہ ہوا۔ یہ قابل فہم ہے۔ اس میں بھی سازشی تھیوری گھڑنا تو ذہنی مریضوں والا کام ہے۔

   آخر میں ہمیں 2 باتیں سمجھ لینی چاہئیں۔

پہلی یہ کہ پاکستان نے ابھی تک ان میزائل حملوں کا جواب نہیں دیا۔ جو فوری ردعمل پاکستان نے دیا وہ تو ابتدا یا ٹریلر ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاک افواج کو ردعمل کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جواب دینے کا حق ہمارے پاس محفوظ ہے۔ یہ حق یقیناً استعمال کیا جائے گا، وقت جگہ اور طریقہ کار کا انتخاب ہماری افواج اپنی مرضی سے کریں گی۔ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ جنگ ہے، ہمیں اپنے حساب سے لڑنی چاہیے نہ کہ دشمن کی مرضی اور توقعات کے مطابق۔

  البتہ پاکستانی ائیر فورس نے اپنی حیران کن برتری ثابت کی ہے۔ اسے سراہنا چاہیے۔ بھارتی جدید ترین فائٹر طیارے مار گرانا غیر معمولی بات ہے۔

  بھارت کے پاس بہت مہنگے اور جدید ترین رافیل طیارے موجود ہیں جو فرانس سے کئی ارب ڈالر کی ڈیل کے بعد لیے گئے۔ رافیل جدید ترین الیکٹرانک وار فیئر کا بہترین طیارہ سمجھا جاتا ہے، فورپلس پلس(++) جنریشن ہے، جزوی طور پر سٹیلتھ خصوصیت کا حامل اور اس کے پاس ائیر ٹو سرفیس سکالپ کروز اور میکا، میٹیور جیسا جدیدترین ائیر ٹو ائیر مار کرنے والا میزائل موجود ہے جو 200 کلومیٹر تک کے فاصلے سے مار کر سکتا ہے۔ رافیل طیارہ ریڈار پر ڈیٹکٹ کرنا بھی آسان نہیں اس کا جدید ترین اینٹی میزائل اور اینٹی ریڈار سسٹم ’سپیکٹرا ‘ بہت مشہور اور جدید ہے۔ یعنی رافیل کے ریڈار کو جام کرنا ہرگز آسان کام نہیں۔

  پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے مطابق بھارتی فضائی قوت کو کاؤنٹر کرنے کے انتظامات کیے تھے اور چینی ساختہ جے 10 سی ڈریگن خریدا تھا، جبکہ ہمارا اپنا جے 17 تھنڈر تو تھا ہی۔ اطلاعات کے مطابق اسی جے 10 سی ڈریگن نے اپنے چینی ساختہ پی ایل 15 میزائلوں کے ذریعے 2 یا 3 رافیل طیاروں کو مارگرایا ہے ۔ بھارت کا روسی ساختہ سخوئی 30 بھی اچھا خاصا جدید طیارہ ہے، اس کا مقابلہ بھی آسان نہیں۔ اس لڑائی میں ایک سخوئی تھرٹی بھی گرایا گیا، ایک شاید مِگ 29 تباہ ہوا۔

  یہ غیر معمولی کامیابی ہے، خاص کر اس لیے کہ پاکستانی طیاروں نے بھارتی فضائی حدود عبور نہیں کی، اپنی فضا میں رہتے ہوئے انہوں نے کمال مہارت سے یہ سب کر دکھایا۔ یہ پاکستانی ائیر فورس کی بھارت پر برتری کا واضح ثبوت ہے۔

  اطلاعات آ رہی ہیں کہ اس واقعے کے بعد فرانس کے رافیل طیاروں کے شیئرز نیچے گئے ہیں جبکہ چینی جے 10 سی کی اہمیت دنیا بھر میں بڑھی ہے۔ فرانس والے بھی شاید پچھتا رہے ہوں کہ چند ارب ڈالر کی خاطر اپنا پریمیئر طیارہ بھارتی نکمے پائلٹوں کو سونپ دیا۔

 حرف آخر یہ کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ اس کا پہلا فیز تھا۔ آگے آگے دیکھیں، ان شااللہ ہماری افواج ہمیں سرخرو کریں گی اور پاکستانیوں کا سربلند ہی رہے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

پاک بھارت کشیدگی عامر خاکوانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی