WE News:
2026-07-24@05:46:39 GMT

پاک بھارت ٹکراؤ: چند سوالات اور ان کے جواب

اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT

  گزشتہ رات بھارت نے جو میزائل حملہ کیا، اس سے ہونے والے نقصانات قوم کے سامنے آ چکے ہیں، پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کی، وہ بھی آپ لوگ اچھی طرح جان چکے ہوں گے، تکرار سے بچنے کے لیے اس  تفصیل سے میں گریز کر کے آگے بڑھتا ہوں۔

  بھارتی حملے کے حوالے سے ایک بیانیہ بھارتی میڈیا بیان کر رہا ہے، حد درجہ مبالغہ آمیز، جھوٹ اور سنسنی خیزی کی انتہا کو چھوتا ہوا اور بے سروپا۔ ایک بیانیہ پاکستانی میڈیا بیان کر رہا ہے، بھارتی میڈیا کو کاونٹر کرتا ہوا، تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی کوشش کرتا۔

جنگوں میں کسی بھی ملک کے نیشنل میڈیا کے لیے مکمل غیر جانبدار رہنا مشکل ہوتا ہے۔ سو طرح کے پریکٹیکل مسائل ہوتے ہیں، پروفیشنل ازم اور حب الوطنی میں کشمکش بھی۔ اس کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستانی میڈیا بھارتی میڈیا سے کئی گنا زیادہ ذمہ دار اور میچور ثابت ہوا، پاکستانی سوشل میڈیا تو بھارتی سوشل میڈیا اور ولاگرز، ٹک ٹاکرز وغیرہ سےکئی سو گنا زیادہ سمجھدار، باخبر اور میچور لگے۔

  ان دونوں اقسام کے بیانیہ کے ساتھ ایک اور بیانیہ بھی پاکستانی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ ان ناراض اور شاکی پاکستانی سیاسی کارکنوں کا  جو اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کی پالیسیوں سے کچھ عرصے سے سخت ناخوش ہیں۔ ان کا طریقہ کار یہی ہے کہ کوئی معلوم یانامعلوم شخص اپنے نازک دماغ پر زور ڈال کر ایک مضمون لکھ مارتا ہے اور پھر دے دنا دن ، ہر جگہ پر اس کے حامی اسے ہی کاپی پیسٹ کر دیتے ہیں۔ کہیں پوسٹ بنا دی، کہیں پر کمنٹس میں چپکا ڈالا۔

آج صبح سے ایک ایسا ہی مضمون گردش کر رہا ہے، اسے لکھنے والے نے اپنا نام شاید عوامی ردعمل کے خوف سےنہیں لکھا۔سوشل میڈیا کو دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، مگر لکھتے ہوئے حقائق تو مسخ نہ کئے جائیں، ہم اس مضمون اور اس میں دئیے گئے سوالات پرنظر ڈالتے ہیں۔

  پہلا سوال: آخر انڈیا نےسینکڑوں کلومیٹر دور سے 100 فی صد درستی کے ساتھ مدارس کو نشانہ کیسے بنایا؟

  اس سوال کا آخر کیا جواب دیا جائے؟ بھائی جدید دور ہے، جدید ٹیکنالوجی کے تحت سینکڑوں کلومیٹر دور سے بلکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے بھی اہداف کو درست نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟ پاکستان کے پاس بھی یہ صلاحیت موجود ہے، جب میزائل تجربات کیے جاتے ہیں تو ان میں 20 سے 50 میٹر تک کے رقبے تک کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، یعنی اگر ایک مکان پر حملہ کیا گیا توعین ممکن ہے ملحقہ دیوار والا مکان سلامت رہے اور صرف ہدف تباہ ہو۔

  دوسرا (طنزیہ )سوال: پاکستان کا اربوں ڈالر کا اینٹی میزائل سسٹم آخر ان میزائلوں کوپکڑنے (INTERCEPT)کرنے میں کیسے ناکام رہا؟

  پہلی بات تو یہ کہ پاکستان کے پاس اربوں ڈالر کا مہنگا اینٹی میزائل سسٹم نہیں جیسا کہ بھارت نے اپنے بڑے دفاعی بجٹ کے حساب سے ایس چارسو(S400) لے رکھا ہے۔ پاکستان کے پاس تاہم مقامی طور پر تیار کردہ مختلف قسم کے اینٹی میزائل سسٹمز کے ساتھ جدید چینی ساختہ اینٹی میزائل سسٹم ایچ کیو نائن (HQ-9)موجود ہے، یہ خاصا جدید اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم ہے اور بیک وقت کئی حملے روک سکتا ہے، اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس بلاتور سسٹم، یوسف ون، پیک تھری،سکائی گارڈ سسٹم وغیرہ موجود ہیں۔ یہ اچھے سسٹم ہیں۔

  یہاں پر البتہ 2 باتیں سمجھ لینا چاہییں، پہلی یہ کہ اینٹی میزائل سسٹم کا یہ مطلب نہیں کہ ملک کے چپے چپے میں ہونے والا ہر میزائل حملہ روکا جا سکتا ہے، خاص طور پر جہاں کئی سو کلومیٹر طویل سرحد ہو، وہاں اس کا امکان رہتا ہے کہ 100 فی صد مقامات پر اینٹی میزائل سسٹمز کی بیٹریز نہ رکھی جا سکیں۔

  یہاں پر اگر کوئی اسرائیل کے اینٹی میزائل سسٹم کی مثال دے تو پہلے یہ سمجھ لیں کہ اسرائیل چھوٹا سا ملک ہے اور اس کی بارڈر زیادہ طویل نہیں، دوسرا اسے دو تین اطراف سے تحفظ حاصل ہے، سمندر کی طرف سے وہ محفوظ ہے، ایک سائیڈ سے مصر ہے جو اس کا اتحادی ملک ہے جبکہ اردن بھی دوستانہ تعلق رکھتا ہے، شام سے بھی اسے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ صرف لبنان میں حزب اللہ یا یمن کے حوثیوں کی طرف سے پھینکے میزائلوں پر نظر رکھتا یا خاص مواقع پر اسے ایرانی میزائلوں کا توڑکرنا تھا۔

  اسرائیل کو  محدود رقبے میں آنے والے میزائلوں کو روکنا تھا، اس کے پاس دنیا کے جدید ترین اور مہنگے ترین اینٹی میزائل سسٹمز موجود ہیں، اس کے باوجود ایرانی بیلسٹک میزائل روکنے میں اس کی امریکا، برطانیہ ، فرانس وغیرہ نے بھرپور مدد کی۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایرانی میزائل اتنے جدید اور تیز رفتار نہیں جتنے ہندوستانی فوج کے میزائل ہیں۔

  دوسرا یہ کہ اینٹی میزائل سسٹمز کو بھی دیکھ بھال کر آن کرنا پڑتا ہے، ورنہ وہ اپنی رینج میں آنے والے ہر طیارے کو ہٹ کر دے گا، خواہ وہ کوئی مسافر طیارہ ہی کیوں نہ ہو۔ بھارت نے غیر ذمہ داری کی انتہا یہ کہ جب حملہ کیا تب کئی ممالک کی 50 کے لگ بھگ پروازیں پاکستانی ائیر سپیس استعمال کر رہی تھیں۔ جب ائیر سپیس اوپن ہو تو پھر اینٹی میزائل سسٹم آن نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کرنے سے پہلے ایک اعلامیہ یا اعلان نوٹم (NOTAM)جاری کرنا پڑتا ہے ، جس کے بعد اس علاقے یا رقبے پر کوئی مسافر طیارہ پرواز نہیں کرسکتا، اگر کوئی غلطی سے ایسا کرے تو ہٹ ہوجائے گا۔ بین الاقوامی قانون یا فوجی ضابطوں کے مطابق نوٹس دینا ضروری ہوتا ہے۔ جیسا کہ اگلے کسی حملے سے بچنے کے لیے پاکستان نے نوٹم جاری کیا اور ائیر سپیس دوسروں کے لیے بند کر دی۔

   تیسری بات یہ ہے کہ پاکستان جیسے درمیانے دفاعی بجٹ رکھنے والے ممالک کے پاس اگر محدود سطح پر اینٹی میزائل نظام ہو تب اہم فوجی اور ملکی سلامتی سے متعلق تنصیبات کے گرد اینٹی میزائل سسٹم رکھا جاتا ہے۔جہاں حملے کا زیادہ خطرہ ہو یا پھر حملے سے ملکی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوجانے کا اندیشہ ہو جیسے نیوکلیئر تنصیبات، اہم ائیر بیس وغیرہ۔

  تیسرا، چوتھا، پانچواں، چھٹا سوال: بھارت نے دیدہ دلیری سے حملے کیوں کیے، کیا اسے عالمی سطح پر تعاون کی یقین دہانی تھی؟ اگر یہ ایئر سٹرائیک تھی تو ہمارا دفاعی نظام کیوں سوتا رہا، بالا کوٹ حملے میں تو طیارے فوری انٹر سیپٹ ہوگئے تھے وغیرہ وغیرہ ۔

  جواب یہ ہے کہ بالا کوٹ حملے میں بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضا میں آ کر کارروائی کی تھی، دراصل تب اس کے پاس نسبتاً پرانے طیارے مگ 29، میراج  وغیرہ تھے۔ آج بھارت کے پاس رافیل جیسا جدید ترین طیارہ موجود ہے جو 200 کلومیٹر سے زیادہ دوری سے فضا سے زمین پر مارکرنے والا سکالپ کروز میزائل استعمال کر سکتا ہے۔ ابھی حملے کے حوالے سے تفصیل سامنے آئے گی، مگر یہ بات یقینی ہے کہ حملے بھارتی سرزمین کے اندر رہتے ہوئے کیے گئے ہیں، اگر ایئر ٹو سرفیس اٹیک تھا تب بھی بھارتی طیارہ پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہوئے اور اگر زمین سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل استعمال ہوئے تب بھی وہ بھارت ہی سے پھینکے گئے۔ بھارتی طیارے پاکستان میں گھستے تو نشانہ بن جاتے۔

 رہی بات عالمی حمایت حاصل ہونے والی تو ابھی تک تو کسی اہم اور قابل ذکر ملک نے بھارت کی کھل کر حمایت نہیں کی۔ سب ہی نے اس حملے کی حوصلہ شکنی کی ہے، صدر ٹرمپ نے تو اپنے ابتدائی ردعمل میں اسے ’شرمناک حملے‘ کہہ ڈالا۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی عقل و فہم والا شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ پاکستان کو ان حملوں کا علم تھا اور پھر بھی یہ ہونے دیے۔ یہ احمقانہ اور زہریلی قسم کی کانسپریسی تھیوری ہے۔

  سوال: پاکستان نے دینی مدارس کیوں بند کرا لیے تھے، کیا انہیں بتا دیا گیا تھا کہ حملہ ہونے والا ہے؟

  ایک چیز ہوتی ہے جسے کامن سینس کہتے ہیں۔ بعض مخالفین اپنے بغض، نفرت اور اندر کے زہر کے باعث اس سےبھی محروم ہوجاتے ہیں۔ ایک خاص طرز کے دینی مدارس پر حملہ متوقع ہوسکتا تھا یعنی اس کا معمولی سا امکان موجود تھا، تب بھی انہیں بند کرا دینا چاہیے تھا۔ اب یہی دیکھ لیں کہ اگر بہاولپور میں  مسجد سبحان اللہ کا مدرسہ خالی نہ ہوتا تو شاید جانی نقصان کئی گنا زیادہ ہو جاتا۔

سوال: بھارت کو پہلگام حملے کے 24 یا 72 گھنٹوں بعد حملہ کرنا چاہیے تھا، مگر اتنے دن گزار کر 9 مئی سے 2 دن پہلے کا انتِخاب کیوں کیا گیا جب یہاں سیاسی احتجاج ہونے والا تھا؟

   اس کا جواب یہی ہے کہ کیڑے نکالنے اور فضول اعتراض کرنے سے پہلے کچھ پڑھ لینا چاہیے، معلومات حاصل کر لی جائیں۔ پلوامہ حملہ 14 فروری کو ہوا تھا، تب بھی بھارت نے تیرھویں دن حملہ کیا تھا۔ یہ قابل فہم بات ہے۔ ایسا حملہ کرتے ہوئے بہت کچھ سوچنا، سمجھنا، حساب کتاب لگانا پڑتا ہے۔ اس بار پندرھویں دن حملہ ہوا۔ یہ قابل فہم ہے۔ اس میں بھی سازشی تھیوری گھڑنا تو ذہنی مریضوں والا کام ہے۔

   آخر میں ہمیں 2 باتیں سمجھ لینی چاہئیں۔

پہلی یہ کہ پاکستان نے ابھی تک ان میزائل حملوں کا جواب نہیں دیا۔ جو فوری ردعمل پاکستان نے دیا وہ تو ابتدا یا ٹریلر ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاک افواج کو ردعمل کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جواب دینے کا حق ہمارے پاس محفوظ ہے۔ یہ حق یقیناً استعمال کیا جائے گا، وقت جگہ اور طریقہ کار کا انتخاب ہماری افواج اپنی مرضی سے کریں گی۔ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ جنگ ہے، ہمیں اپنے حساب سے لڑنی چاہیے نہ کہ دشمن کی مرضی اور توقعات کے مطابق۔

  البتہ پاکستانی ائیر فورس نے اپنی حیران کن برتری ثابت کی ہے۔ اسے سراہنا چاہیے۔ بھارتی جدید ترین فائٹر طیارے مار گرانا غیر معمولی بات ہے۔

  بھارت کے پاس بہت مہنگے اور جدید ترین رافیل طیارے موجود ہیں جو فرانس سے کئی ارب ڈالر کی ڈیل کے بعد لیے گئے۔ رافیل جدید ترین الیکٹرانک وار فیئر کا بہترین طیارہ سمجھا جاتا ہے، فورپلس پلس(++) جنریشن ہے، جزوی طور پر سٹیلتھ خصوصیت کا حامل اور اس کے پاس ائیر ٹو سرفیس سکالپ کروز اور میکا، میٹیور جیسا جدیدترین ائیر ٹو ائیر مار کرنے والا میزائل موجود ہے جو 200 کلومیٹر تک کے فاصلے سے مار کر سکتا ہے۔ رافیل طیارہ ریڈار پر ڈیٹکٹ کرنا بھی آسان نہیں اس کا جدید ترین اینٹی میزائل اور اینٹی ریڈار سسٹم ’سپیکٹرا ‘ بہت مشہور اور جدید ہے۔ یعنی رافیل کے ریڈار کو جام کرنا ہرگز آسان کام نہیں۔

  پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے مطابق بھارتی فضائی قوت کو کاؤنٹر کرنے کے انتظامات کیے تھے اور چینی ساختہ جے 10 سی ڈریگن خریدا تھا، جبکہ ہمارا اپنا جے 17 تھنڈر تو تھا ہی۔ اطلاعات کے مطابق اسی جے 10 سی ڈریگن نے اپنے چینی ساختہ پی ایل 15 میزائلوں کے ذریعے 2 یا 3 رافیل طیاروں کو مارگرایا ہے ۔ بھارت کا روسی ساختہ سخوئی 30 بھی اچھا خاصا جدید طیارہ ہے، اس کا مقابلہ بھی آسان نہیں۔ اس لڑائی میں ایک سخوئی تھرٹی بھی گرایا گیا، ایک شاید مِگ 29 تباہ ہوا۔

  یہ غیر معمولی کامیابی ہے، خاص کر اس لیے کہ پاکستانی طیاروں نے بھارتی فضائی حدود عبور نہیں کی، اپنی فضا میں رہتے ہوئے انہوں نے کمال مہارت سے یہ سب کر دکھایا۔ یہ پاکستانی ائیر فورس کی بھارت پر برتری کا واضح ثبوت ہے۔

  اطلاعات آ رہی ہیں کہ اس واقعے کے بعد فرانس کے رافیل طیاروں کے شیئرز نیچے گئے ہیں جبکہ چینی جے 10 سی کی اہمیت دنیا بھر میں بڑھی ہے۔ فرانس والے بھی شاید پچھتا رہے ہوں کہ چند ارب ڈالر کی خاطر اپنا پریمیئر طیارہ بھارتی نکمے پائلٹوں کو سونپ دیا۔

 حرف آخر یہ کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ اس کا پہلا فیز تھا۔ آگے آگے دیکھیں، ان شااللہ ہماری افواج ہمیں سرخرو کریں گی اور پاکستانیوں کا سربلند ہی رہے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

پاک بھارت کشیدگی عامر خاکوانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا