Express News:
2026-07-24@09:17:10 GMT

امریکی میڈیا نیتن یاہو سے بھی زیادہ اسرائیل نواز ہے

اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT

جب سے غزہ کا بحران شروع ہوا ۔مغربی میڈیا کی جانبداری پر درجنوں سوالات اٹھ چکے ہیں۔اگر اس وقت کھلی صحافتی جانبداری کا ورلڈ کپ منعقد ہو تو ٹیم امریکا کو یورپ بھی شاید نہ ہرا سکے ۔

مثلاً اخبار نیویارک ٹائمز کی مئی میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ میں غزہ کے لاکھوں قحط متاثرین میں سے ایک محمد زکریا المتواق ( عمر ڈیڑھ برس ) کا بھی ذکر ہوا۔ زکریا کی ماں نے بتایا کہ اس کا بچہ صحت مند پیدا ہوا تھا۔مگر مسلسل ناکافی غدائیت کے سبب ابتر حالت میں ہے۔

یہ رپورٹ شایع ہونے کے لگ بھگ ایک ماہ بعد اخبار نیویارک ٹائمز نے قارئین سے معذرت کرتے ہوئی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ہمیں مزید چھان بین سے معلوم ہوا کہ محمد زکریا پیدائش کے وقت ہی سے سیریبرل پالسی ( اعصابی بیماری ) میں مبتلا تھا۔لہٰذا اس کی خراب حالت محض ناکافی غذائیت کا نتیجہ نہیں ہے۔

اس ’’ تصیح ‘‘ پر ایک مبصر نے طنز کیا کہ اچھا ہوا اخبار نے صفائی پیش کر دی کہ ڈیڑھ سالہ محمد زکریا کی لاغری کا سبب خوراک کا ملنا نہیں بلکہ پیدائشی نقص ہے۔اس وضاحت کے بعد اب جرمن نازیوں کے اس موقف کو بھی سچ ماننا ہو گا کہ ہالوکاسٹ کا ایک شہرہ آفاق کردار بارہ سالہ این فرینک کسی کنسنٹریشن کیمپ میں نازی پہرے داروں کے ظلم کے نتیجے میں نہیں بلکہ ٹائفس کے سبب مری تھی۔

اسرائیل کا مہینوں سے موقف ہے کہ ہم نے فلسطینیوں کو اٹھہتر برس سے امداد بانٹنے والی اقوامِ متحدہ کی تنظیم انرا پر اس لیے پابندی لگائی کہ اسے دھشت گردوں نے ہائی جیک کر لیا تھا۔اور یہ کہ غزہ میں گزشتہ بائیس ماہ کے دوران جتنی بھی بین الاقوامی امداد پہنچی اس کا بیشتر حصہ حماس نے لوٹ لیا چنانچہ امداد کی تقسیم کا کام بادلِ ناخواستہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے سپرد کرنا پڑا۔

اس پورے عرصے میں اخبار نیویارک ٹائمز حماس کے ہاتھوں امداد کی چوری کا الزام تندہی سے شایع کرتا رہا۔ گزشتہ ہفتے اس نے پہلی بار ایک رپورٹ میں یہ اعتراف کیا کہ چار اسرائیلی ذرایع نے تصدیق کی ہے کہ اقوامِ متحدہ کا امدادی تقسیم کا نظام خاصا موثر تھا اور یہ کہ حماس اقوامِ متحدہ کی امداد کی چوری میں ملوث نہیں ۔ البتہ حماس چند چھوٹی امدادی تنظیموں کو ملنے والی رسد ضرور ضبط کرتی رہی ہے۔

مگر اس وضاحت سے پہلے جنوری سے جولائی کے آخری ہفتے تک غزہ میں امداد کی چوری کا اسرائیلی الزام نیویارک ٹائمز کی اکسٹھ رپورٹوں اور مضامین میں دھرایا گیا۔ان میں سے نو رپورٹوں میں صرف اسرائیلی موقف پر ہی تکیہ کیا گیا۔بارہ مضامین میں یہ تشویش ظاہر کی گئی کہ حماس امداد کی تقسیم میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔مگر گزشتہ ہفتے شایع ہونے والی وضاحت میں یہ پھر بھی نہیں قبولا گیا کہ اخبار اب تک مسلسل غلط بیانی کرتا رہا۔الٹا اخبار آج بھی بضد ہے کہ وہ اسرائیل کے سرکاری دعوے اور فلسطینیوں کا موقف باریک بینی سے چھان پھٹک کے بعد ہی چھاپتا ہے۔

اگر یہ وضاحت درست ہے تو پھر تو اور تعجب خیز ہے کہ اخبار کو مہینوں سے دھرائے جانے والا انرا کا یہ موقف کیوں دکھائی نہیں دیا کہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں کہ حماس یا اسرائیل سے برسرِ پیکار دیگر مسلح گروہ ہماری امداد کی چوری میں ملوث ہیں۔ بلکہ اس طرح کا دعوی امداد کی تقسیم اپنے ہاتھ میں لینے کے جواز کے طور پر کیا جا رہا ہے۔حالانکہ امداد کی موجودہ تقسیم بین الاقوامی انسانی قوانین کو خاطر میں لائے بغیر ہو رہی ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں جو بھی امداد عالمی فلاحی اداروں کی جانب سے پہنچی۔اس کا محض ایک فیصد غائب ہوا یا لوٹا گیااور اس کام میں بھی اسرائیلی حمائیت یافتہ ابو شباب گروپ آگے آگے ہے۔یورپی یونین کمیشن بھی اسی نتیجے پر پہنچا۔مگر نیویارک ٹائمز میں ان تردیدوں کے باوجود امریکی اہلکاروں کے حوالے سے تین ایسی خبریں پھر بھی شایع ہوئیں کہ حماس امداد چوری کر رہی ہے۔

گزشتہ برس اپریل میں ایک موقر آن لائن امریکی جریدے ’’دی انٹرسیپٹ ‘‘ نے نیویارک ٹائمز کے عملے کے لیے جاری ہونے والے ایک انٹرنل میمو کا حوالہ دیا۔اس میمو میں اسٹاف کو ہدائیت کی گئی کہ وہ نسل کشی، نسلی صفائی، مقبوضہ علاقے جیسی اصطلاحات استعمال نہ کرے اور فلسطین اور غزہ کے پناہ گزین کیمپ کی اصطلاح بھی کم از کم برتے۔

غزہ کے بحران کے ابتدائی چھ ہفتے کے دوران اخبار نیویارک ٹائمز ، واشنگٹن پوسٹ اور لاس اینجلس ٹائمز کی کوریج کے جائزے سے پتہ چلا کہ ان اخبارات نے اسرائیلی اموات اور امریکا میں یہودیوں سے تعصب کی خبروں کو نمایاں شایع کیا۔جب کہ فلسطینی اموات کی خبریں سرسری انداز میں محض خانہ پری کے لیے شایع ہوئیں۔

ان اخبارات نے اسرائیلی حکام کے ایسے بیانات کی تشہیر کو بھی دبایا جن سے نسل پرستی اور نسل کشی کی بو آتی ہے۔ان میں اسرائیلی وزیرِ سلامتی بن گویر کا یہ بیان بھی شامل تھا کہ غزہ میں گندم کے ایک دانے کے بجائے سیکڑوں ٹن بموں کی رسد جاری رہنی چاہیے۔اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلل سموترخ نے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بیس لاکھ لوگوں کو بھوکا مارنا ایک سودمند پالیسی ہے بھلے دنیا اس پالیسی کی کتنی بھی مخالف ہو۔

دو ہفتے پہلے ہی وزیرِ ثقافت امشائی ایلیاہو نے کہا کہ فلسطینی اندر سے نازی ہیں۔غزہ میں کوئی بھوکا نہیں۔اگر ہو بھی تو یہ ہمارا نہیں باقی دنیا کا دردِ سر ہے۔امریکی میڈیا نے ان بیانات کو چیختی چنگھاڑتی سرخیاں بنانا پسند نہیں کیا کیونکہ یہ کسی فلسطینی یا عرب کے بیانات نہیں تھے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی آدھی تعداد غذا کی عدم دستیابی کے سبب زندگی و موت کے درمیان معلق ہے۔ بھوک سے مرنے والوں میں بچوں کا تناسب اسی فیصد ہے۔پانچ لاکھ افراد قحط کی لپیٹ میں ہیں اور باقی آبادی ناکافی غذائیت بھگت رہی ہے۔یعنی انسانی جسم کو روزانہ جتنی لازمی کیلوریز درکار ہیں وہ غزہ کے کسی بھی باشندے کو میسر نہیں۔

خوراک سے بھرے ہزاروں ٹرک غزہ کی سرحد پر کھڑے ہیں اور ان میں بھرا سامان مسلسل ضایع ہو رہا ہے۔جب کہ اب تک خوراک کے متلاشی ڈیڑھ ہزار سے زائد فلسطینیوں کی قاتل غزہ ہومینٹیرین فاؤنڈیشن کی ’’ شاندار ‘‘ کارکردگی کو امریکا ہر تھوڑے عرصے بعد سراہتے ہوئے سو سو ملین ڈالر کے چیک دے رہا ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اخبار نیویارک ٹائمز امداد کی چوری کہ حماس رہی ہے کے لیے میں یہ غزہ کے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل